سیر روحانی — Page 511
۵۱۱ کرتے ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ خدا تو ایک ہی ہے باقی سب اُس کے ظہور ہیں۔پھر شراب کو اچھا سمجھا جاتا تھا، اسلام کے مسئلہ طلاق پر اعتراض کیا جاتا تھا، تعدد ازدواج کو عورتوں کے لئے شدید ظلم قرار دیا جاتا تھا ، سود کو تجارت کا ایک لازمی جزو سمجھتے ہوئے بڑا مفید خیال کیا جاتا تھا، پردہ کو بُرا قرار دیا جاتا تھا، ورثہ کے مسائل کو درست نہیں سمجھا جاتا تھا مگر آج دنیا ٹھوکریں کھا کر اس تعلیم کی طرف آرہی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی کیونکہ خدا نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ وہ آپ کو مقام محمود عطا کر یگا اور دنیا آپ کے اخلاق اور آپ کی تعلیم کی برتری کی وجہ سے اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ کی تعریف کریگی۔دشمنوں کے منہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام فضائلِ حسنہ سے اس طرح متصف کر کے مبعوث فرمایا ہے کہ کوئی خوبی نہیں جو آپ میں نہ پائی جاتی ہو اور کوئی کمال نہیں جو آپ کے اندر نہ دکھائی دیتا ہوا اور پھر ہر کمال اپنے اپنے دائرہ میں ایسی امتیازی شان کے ساتھ آپ کے اندر پایا جاتا ہے که دوست تو الگ رہے، دشمن بھی آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں اور وہ آپ کے اخلاق کی بلندی اور آپ کے کردار کی پاکیزگی کے معترف ہیں۔سرولیم میور کا اقرار کہ محمد رسول اللہ نے ایک نئی دنیا پیدا کی ہے سرولیم میور اسلام۔کا ایک شدید ترین دشمن ہے مگر اس نے بھی جب اُس انقلاب پر نگاہ دوڑائی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی سرزمین میں پیدا کیا تو وہ بھی یہ الفاظ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ :۔یہ کہنا کہ اسلام کی صورت عرب کے حالات کا ایک لازمی نتیجہ تھی ایسا ہی ہے جیسا کہ یہ کہنا کہ ریشم کے باریک تاگوں میں سے آپ ہی ایک عالیشان کپڑا تیار ہو گیا ہے یا یہ کہنا کہ جنگل کی بے تراشی لکڑیوں سے ایک شاندار جہاز تیار ہو گیا ہے یا پھر یہ کہنا کہ گھر دری چٹان کے پتھروں میں سے ایک خوبصورت محل تیار ہو گیا ہے اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ابتدائی عقائد پر پختہ رہتے ہوئے عیسائیت اور یہودیت کی سچائی کی راہنمائی کو قبول کرتے چلے جاتے اور اپنے متبعین کو ان دونوں مذاہب کی