سیر روحانی — Page 510
۵۱۰ اور اس کے زندگی بخش کلام کو سُنا تو اُسے تمام کلاموں سے افضل پایا، اس کے علم کو دیکھا تو دنیا کے بڑے بڑے عالموں کو اس کے سامنے جاہل پایا، اس کی معرفت کو دیکھا تو بڑے بڑے عارفین کو اُس کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرتے دیکھا ، اس کی محبت اور تعلق باللہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کا ویسا عاشق اور سچا عبادت گزار انہیں ساری دنیا میں نظر نہ آیا ، انہوں نے اس کے دلائل و بینات کا جائزہ لیا تو اُنکا رڈ کرنے کی دُنیا کے کسی مذہب میں طاقت نہ پائی ، اس کی دعاؤں کی قبولیت کو دیکھا تو انہیں بے نظیر پایا، اس کے فیوض و برکات اور اس کی تعلیمات کا مشاہدہ کیا تو دنیا میں اُن کا کوئی ثانی نہ دیکھا ، اس کی پیشگوئیوں پر انہوں نے نظر دوڑائی تو انہیں آپ کی صداقت اور راستبازی کا ایک بڑا نشان دیکھا۔غرض جس پہلو سے بھی انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، اُسے مجسمہ حسن واحسان پایا اور وہ آپ کے ایسے والہ وشیدا ہوئے کہ تمام دنیوی علائق کو توڑ کر وہ آپ سے ایسے وابستہ ہو گئے اور اس عہدِ وفا کو کو انہوں نے مرتے دم تک اس خوبی سے نباہا کہ پہلی امتیں اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔زبانوں پر حمد کے ترانے یہی وہ چیز تھی جس کی خدا تعالی کی طرف سے ان الفاظ میں خبر دی گئی تھی کہ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَا مَّا مَّحْمُودًا۔یعنی اے محمد رسول اللہ ! آج لوگ تیرا حسن دیکھنے سے قاصر ہیں وہ تجھے ایسی گٹھلی سمجھتے ہیں جو پاؤں تلے روندی جائیگی ، ایک ایسا بیج خیال کرتے ہیں جسے پرندے اُچک کر لے جائیں گے مگر ہم نے تیرے اندر ایسی خوبیاں ودیعت کر دی ہیں کہ جوں جوں ان خوبیوں کا ظہور ہوتا جائے گا تیری حمد کے ترانے لوگوں کی زبانوں پر جاری ہوتے جائیں گے اور مذمم کہنے والے تجھ پر درود اور سلام بھیجیں گے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے وہ تمام مسائل جن پر یورپ کے مدبرین اور بڑے بڑے فلاسفر بھی اعتراض کیا کرتے تھے آج دنیا اُن کی معقولیت کی قائل ہو رہی ہے اور وہ تسلیم کرتی ہے کہ دنیا کی مشکلات کا صحیح حل صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کر دہ تعلیم میں ہی ہے۔اسلامی تعلیم کی برتری کا اعتراف ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب تو حید کے اعلان پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو انتہائی مصائب کا نشانہ بنایا گیا مگر آج ساری دنیا خدائے واحد کے آستانہ پر سر جُھکائے ہوئے ہے بلکہ وہ لوگ جو مذہبا تثلیث کے قائل ہیں یا مذ ہبا سینکڑوں دیوتاؤں کو تسلیم