سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 900

سیر روحانی — Page 488

۴۸۸ اور نقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہی تھی اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی صداقت کا اظہا رتھا۔آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے کہا۔اے میرے چچا! آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں۔خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی توحید کے اعلان سے نہیں رک سکتا ۸۸ کیونکہ یہی وہ کام ہے جس کے لئے میں اس دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔آپ کا انتہائی مشکلات اور مصائب کے اوقات میں جبکہ ابو طالب کے قدم بھی لڑکھڑا گئے تھے یہ دلیرانہ جواب اس لئے تھا کہ آپ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ کی صفت کے حامل تھے اور دین کے لئے اتنی غیرت رکھتے تھے کہ کفر کی ہر طاقت کے مقابلہ میں ایک مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ جاتے تھے اور کسی بڑی سے بڑی مصیبت کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ مسیلمہ کذاب آپ کے پاس مسیلمہ کذاب کی نا کام واپسی آیا اور اُس نے کہا اگر آپ مجھے اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیں تو میری ساری قوم آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہے اُس وقت اس کی قوم کا ایک لاکھ سپاہی اس کی پشت پر تھا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اتنا چاہتا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد اسے حکومت دیدی جائے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں خدا نے أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ کی صفت کا حامل بنایا تھا انہوں نے جب اس بات کو سُنا تو آپ نے کھجور کی شاخ کے ایک تنکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو اُس وقت آپ کے ہاتھ میں تھی فرمایا تم تو خلافت کہتے ہو میں تو تمہیں یہ تنکا بھی دینے کے لئے تیار نہیں۔یہ جواب ایسا تھا جس پر وہ غصہ اور ناراضگی کی حالت میں واپس چلا گیا ۱۹، اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو وہ اپنے ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوا اور اُس نے ایسا شدید حملہ کیا جس کی مثال کسی پہلے حملہ میں نہیں ملتی مگر باوجود اس کے کہ مسیلمہ اور اس کی قوم کی طرف سے حقیقی خطرہ کا امکان تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطالبہ کو رڈکر دیا اور اس بات کی ذرہ بھی پرواہ نہ کی کہ اس کے نتیجہ میں کیا مشکلات آسکتی ہیں۔ایک صحابی کی درخواست پر رسول کریم صلی اللہ مگر جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے مقابلہ میں ایک ایسے علیہ وسلم کا اسے اپنی چادر دے دینا پہاڑ کی حیثیت رکھتے تھے جس سے ٹکرا کر انسان کا سر پاش پاش ہو جاتا ہے