سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 900

سیر روحانی — Page 487

۴۸۷ نے کئی مواقع پر چاہا کہ آپ ان کے بارہ میں نرمی سے کام لیں اور اُن کے بتوں کی تنقیص نہ کریں مگر آپ نے کسی مرحلہ پر بھی اُن کے آگے سر نہیں جھکا یا حالانکہ آپ جانتے تھے کہ اس انکار کے نتیجہ میں ان لوگوں کی آتشِ غضب اور بھی بھڑک اُٹھے گی اور یہ پہلے سے زیادہ جوش کی اور انتقامی قوت کے ساتھ اسلام کو مٹانے کے لئے کمر بستہ ہو جا ئینگے مگر آپ نے اپنی یا اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہ کی اور ہمیشہ انہیں یہی کہا کہ خدا نے جس پیغام کے پہنچانے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے میں اس کے پہنچانے میں اپنے آخری سانس تک کوشش کرتا چلا جاؤں گا اور کبھی اس میں غفلت اور کوتا ہی سے کام نہ لونگا۔عمائد قریش کے آنے پر رسول کریم جب مکہ میں اسلام نے پھیلنا شروع کیا اور قریش کو نظر آنے لگا کہ ان کی کوششیں صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے چا کو جواب ناکامی کا رنگ اختیار کرتی جا رہی ہیں تو انہوں نے اپنا ایک وفد ابو طالب کے پاس بھیجا جس میں ابو جہل ، ابوسفیان اور عتبہ وغیرہ قریش کے بڑے بڑے رؤساء شامل تھے۔انہوں نے ابوطالب کے پاس آکر کہا کہ آپ ہماری قوم میں معزز ہیں اس لئے ہم آپ سے یہ درخواست کرنے آئے ہیں کہ اب بات حد سے بڑھ چکی ہے ہم نے آج تک بہت صبر کیا ہے مگر اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے آپ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا کہنا چھوڑ دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس کی حمایت سے دست بردار ہو جائیں ہم خود اس سے نپٹ لینگے۔اور اگر آپ اپنے بھتیجے کو بھی نہ سمجھا ئیں اور اس کی حمایت سے بھی دست بردار نہ ہوں تو ہم آپ کا بھی مقابلہ کرینگے اور آپ کو اپنی لیڈری سے الگ کر دینگے۔ابوطالب کے لئے یہ ایک نہایت ہی نازک موقع تھا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا یا اور کہا اے میرے بھتیجے! آج تیری قوم کے معززین کا ایک وفد میرے پاس آیا تھا وہ تیری باتوں سے سخت مشتعل ہو چکے ہیں اور قریب ہے کہ وہ لوگ کوئی سخت قدم اُٹھا ئیں اور مجھے بھی تکلیف پہنچا ئیں۔میں محض تیری خیر خواہی کے لئے کہتا ہوں کہ ان باتوں کو چھوڑ دے ورنہ میں اکیلا ساری قوم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افسردگی کی گھڑیوں میں سے یہ سخت ترین گھڑی تھی ایک طرف وہ شخص تھا جس نے نہایت محبت سے آپ کو پالا تھا اور جس کے پاؤں میں کانٹا چبھنا بھی آپ گوارہ نہ کر سکتے تھے اُسے ساری قوم دُکھ دینے