سیر روحانی — Page 29
۲۹ نکال لئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں جن کا لفظ انسانوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔میں نے اُن آدمیوں کا بھی پتہ لے لیا ہے جنہیں قرآن کریم میں جن کہا گیا۔اُن شہروں کا بھی پتہ لے لیا ہے جن میں وہ جن رہتے تھے اور تاریخی گواہیاں بھی اس امر کے ثبوت۔کے لئے مہیا کر لی ہیں کہ وہ جن انسان ہی تھے کوئی غیر مرئی مخلوق نہ تھی۔اب میں آیات قرآنیہ سے اُن مسائل کے دلائل بیان کرتا ہوں جن کا اس وقت میں نے ذکر کیا ہے۔آدم پہلا بشر نہیں میرا پہلا دعوئی یہ تھا کہ قرآن کریم سے یہ امر ثابت ہے کہ آدم پہلا بشر نہیں یعنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے یکدم پیدا کر دیا ہو اور پھر اس سے نسلِ انسانی کا آغاز ہوا ہو، بلکہ اس سے پہلے بھی انسان موجود تھے۔چنانچہ اس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں آدم کے ذکر میں فرماتا ہے کہ اس نے فرشتوں سے کہا۔اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ " میں زمین میں ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔اگر آدم پہلا شخص تھاجسے اللہ تعالیٰ ن پیدا کیا تو اے فرشتوں سے یوں کہنا چاہئے تھا کہ میں زمین میں ایک شخص کو پیدا کرنے والا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ میں پیدا کرنے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اور لوگ پہلے سے زمین میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے آدم کو اپنا خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا۔پس یہ پہلی آیت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق آتی ہے اور یہاں پیدائش کا کوئی ذکر ہی نہیں۔دوسری آیت جس سے اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ملتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے بھی آدمی موجود تھے سورہ اعراف کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَقَدْ خَلَقْنَكُمْ ثُمَّ صَوَّرُ نَكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَئِكَةِ اسْجُدُو الأدَمَ یعنی ہم نے بہت سے انسانوں کو پیدا کیا، پھر ان کو مکمل کیا پھر ان کے دماغوں کی تعمیل کی اور انہیں عقل والا انسان بنایا اور پھر ہم نے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔یہ نہیں کہا کہ میں نے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔بلکہ یہ فرماتا ہے کہ اے نسلِ انسانی ! میں نے تم کو پیدا کیا اور صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ صَوَّرُ نَكُمْ میں نے تمہیں ترقی دی تمہارے دماغی قوی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور جب ہر لحاظ سے تمہاری ترقی مکمل ہو گئی تو میں نے ایک آدمی کھڑا کر دیا اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کئی انسان پیدا ہو چکے تھے کیونکہ خَلَقْنكُمُ اور صَوَّرُ نَكُمْ