سیر روحانی — Page 424
۴۲۴ جسم سے ظاہر کر دیا فرشتے خاموش ہو گئے اور کہا کہ ہم سمجھ گئے۔اصل مضمون نہیں بلکہ یہ سمجھ گئے ہیں کہ اس تجلی کا حامل آدم ہی ہوسکتا تھا ہم نہیں ہو سکتے تھے۔آدم کا کام اور ہے اور فرشتوں کا کام اور اصل حقیقت تو وہ اب بھی نہیں سمجھے جس دن اصل حقیقت سمجھنے لگ جائیں گے اس دن وہ آدمی بن جائینگے آج بھی فرشتہ اصل حقیقت کو نہیں سمجھا مگر فرشتہ اتنا سمجھ گیا ہے کہ آدم کا کام اور ہے اور میرا کام اور۔اگر فرشتے اسے نئی تجلی نہ سمجھتے تھے اور اگر وہ یہی سمجھتے تھے کہ آدم کو سکھایا تو وہ سیکھ گیا تو میں ان داناؤں سے جو فرشتوں کے وکیل بنتے ہیں پوچھتا ہوں کہ ان کی عقل کیوں ماری گئی۔اگر سوال یہی تھا کہ اس کو سکھایا وہ سیکھ گیا تو فرشتے کیوں نہ بولے وہ چُپ کیوں ہو گئے ؟ ان کو کہنا چاہئے تھا کہ اس کو سکھایا یہ سیکھ گیا ہمیں سکھاتے تو ہم سیکھ جاتے مگر ان کی تو تسلی ہو گئی اور اس معترض کی ابھی تک تسلی نہیں ہوئی اور پچاس ساٹھ ہزار سال سے جو اسے شبہ پیدا ہوا ہے وہ ابھی دُور نہیں ہوا۔آدم سے مختلف تجلیات کا ظہور اصل سوال کرنے والوں کا بیان ہے کہ ان کے لئے یہ سوال حل ہو گیا کیونکہ وہ آگے سے نہیں بولے اور اسی لئے نہیں بولے کہ در حقیقت وہ احمق ہے جو سمجھتا ہے کہ یہاں انسانیت کے سمجھنے کا سوال تھا۔انسانیت کے سمجھنے کا سوال نہیں تھا بلکہ فرشتوں کا سوال یہ تھا کہ وہ تحتی جو آپ ظاہر کرنا چاہتے ہیں آیا ہم اس کے حامل نہیں ہو سکتے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرما یا نہیں ہم تمہیں عملا تجلی کر کے دکھا دیتے ہیں اس تجلّی کے بعد تم خود فیصلہ کر لینا کہ تم اسے ظاہر کر سکتے ہو یا نہیں۔چنانچہ آدم سے مختلف تجلیات کا ظہور ہوا مثلاً ایک تجلی تو یہی ظاہر ہوئی کہ انسان دوزخ میں ڈالا گیا فرشتہ دوزخ میں جا ہی نہیں سکتا۔آخر ابو جہل وغیرہ دوزخ میں گئے ہیں یا نہیں فرشتہ اس تجلی کو برداشت ہی نہیں کر سکتا یہ قہری تجلتی تھی جس کو برداشت کرنے کی صرف آدم میں طاقت رکھی گئی فرشتہ اس تجلی کا حامل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ملائکہ سے تعلق رکھنے والی تجلیات اور رنگ کی ہیں ان تجلیات کو ہم نہیں اُٹھا سکتے وہ فرشتوں کے لئے مخصوص ہیں اور ہمارے لئے انسان کی تجلیات مخصوص ہیں۔پس فرشتوں کا یہ سوال ہی نہیں تھا کہ وہ کونسی تحجتی ہے جس کے اظہار کے لئے آدم پیدا کیا گیا ہے بلکہ ان کا سوال یہ تھا کہ ایسی کونسی تحجتی ہے جو آدم ہی اُٹھا سکتا ہے ہم نہیں اُٹھا سکتے ؟ جب