سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 900

سیر روحانی — Page 423

۴۲۳ پاس لائے جائیں ہم کہیں گے یہ اس قابل نہیں کیونکہ ہم نے اس کو چوکونہ شکل دینی ہے۔یا اگر فرض کرو کسی ایسی شکل میں ہم اس کو دیکھنا چاہتے ہیں جیسے تکون ہوتی ہے تو بے شک چار گوشیہ برتن لائے جائیں اور کہا جائے کہ ان میں پانی پڑ سکتا ہے ہم کہیں گے پڑ سکتا ہے مگر ہم نے اس کو دیکھنا سہ گوشہ ہے۔یا اگر ہماری غرض یہ ہے کہ جیسے ایک سینگ ہوتا ہے اسی طرح سینگ کی شکل میں پانی کو دیکھیں تو اس غرض کے لئے ہم اسی قسم کے برتن کو پسند کریں گے جو سینگ کی شکل کا ہوگا یا اگر تکلفی جمانی ہو تو اب قلفی کی شکل چاہے قلفی کی ہو چاہے جوتی کی ، مزہ ایک جیسا ہی رہے گا مگر ہمارے ملک میں قلفی کی شکل کا رواج ہے اب اگر قلفی بنانی ہوا اور کوئی کہے کہ ٹفن کیرئیر میں قلفی جما لو تو دوسرا شخص کبھی نہیں بنائے گا وہ کہے گا قلفی لاؤ۔میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ اس کی کیا حکمت ہے؟ بہر حال جس نے کام کرنا ہو وہ جس شکل کو پسند کرتا ہے اس قسم کا ظرف لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ یہاں سوال ظرف کا ہے ہم جن صفات کو دُنیا میں ظاہر کرنا چاہتے ہیں وہ ظرف فرشتوں کا نہیں بلکہ آدم کا ہے۔پھر انسان چیز بھی اپنے ظرف کے مطابق حاصل کرتا ہے اگر دوسیر والا ظرف ہوگا تو دو سیر چیز آئے گی ، اگر چھ چھٹانک والا ظرف ہوگا تو چھ چھٹانک آئے گی ، اگر ایک تولہ والا ظرف ہوگا تو ایک تولہ آئے گی۔اس نقطہ نگاہ سے بھی فرمایا کہ جس علم اور قانون کی اس وقت ضرورت ہے اس کا ظرف صحیح یہی آدم ہے چنانچہ دیکھو! اس شخص کو ہم نے سکھایا اور سیکھ گیا یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ شخص قابل تھا اور فرشتے اس جواب کو سن کر فوراً سرتسلیم خم کر دیتے ہیں اور سب کی تسلی ہو جاتی ہے۔پھر انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اب گورنر کے احکامات کو رائج کرو چنانچہ فَسَجَدُوا کے سارے کے سارے عمیل حکم میں لگ گئے اور سب نے اس حکم پر لبیک کہا اور فرمانبرداری اور امداد شروع کر دی۔ایک اعتراض کا جواب بعض لوگ فرشتوں کے ہمدرد بن کر اس آیت پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو سکھایا تو وہ سیکھ گیا فرشتوں کو نہ سکھایا وہ نہ سیکھے اس میں فرشتوں کا قصور کیا ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل سوال یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی مختلف تجلیات کے لئے مختلف آئینوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک تجلی کا آئینہ آدم ہے۔فرشتے معلوم کرنا چاہتے تھے کہ وہ نئی تجلی کیا ہوگی جو کہ آدم کے ذریعہ ہی ظاہر ہوسکتی ہے؟ خدا تعالیٰ نے وہ تجلی آدم پر ڈالی اور اس نے اسے صحیح طور پر اخذ کر لیا اور پھر اس کو اپنے