سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 900

سیر روحانی — Page 397

۳۹۷ تقویٰ میں آگے قدم بڑھاتا ہے اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی اُس پر پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں گویا اس علم کے لئے بی۔ایس سی ہونا ضروری نہیں صرف تقویٰ میں ترقی کرنا ضروری ہے۔جوں جوں کو ئی شخص تقوی میں ترقی کرتا جاتا ہے اُس کا علم بڑھتا چلا جاتا ہے اور اُسے پہلے سے زیادہ ڈگریاں ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔الم روحانی میں سب سے بڑی ڈگری چنانچہ دیکھ لو اس عالم روحانی میں سب سے ނ بڑی ڈگری اس شخص کو ملی جس کے متعلق خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی خدا تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ وہ امی اور ان پڑھ ہے۔۳۷ دنیوی حکومتوں میں ایک امی کا کوئی مقام نہیں مگر خدا تعالیٰ کا دربار دیکھو کہ اُس نے دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے ایک اُمی کا ہی انتخاب کیا اور فرمایا کہ ہم اس کو وہ علم سکھائیں گے کہ دنیا کے بڑے بڑے آدمی بھی اس کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوں گے۔دیدار عام کی دعوت دیوانِ عام کی دوسری غرض لوگوں کو بادشاہ کا دیدار عام دینا ہوتی ہے۔بادشاہ دربار میں آکر بیٹھتے ہیں اور لوگ ان کے دیدار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ ان کو بادشاہ کے دیکھنے سے کیا مل جاتا ہے؟ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا وہ دیکھتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔مگر اس دربار عام میں جو دیدار عام کرایا جاتا ہے اس میں یہ خوبی ہے کہ ادھر انسان کو دیدار حاصل ہوا اور ادھر اس پر چودہ طبق گھل گئے اور پھر یہ دیدار وہ ہے جس سے ہر شخص حصہ لے سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ٣٨ فرماتا ہے ہم یہ جانتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں ہمارے دیدار کی ایک نہ مٹنے والی خواہش پائی جاتی ہے مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تم میں یہ طاقت نہیں کہ اپنی کوشش اور جدو جہد سے ہمارے دیدار سے فیضیاب ہو سکو اس لئے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے خودتم پر جلوہ گر ہوتے ہیں تاکہ تم میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے جو ہمارا دیدار نہ کر سکے۔دنیوی درباروں کے ناقص انتظامات دنیا میں تو جب دیوانِ عام منعقد کیا جاتا ہے تو اول تو سب لوگوں کو اس دربار میں بیٹھنے