سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 900

سیر روحانی — Page 396

۳۹۶ سے اُس کے سر پر آلگا۔وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھا اور کہنے لگا خدایا! مجھے معاف فرما اب تیری حکمت میری سمجھ میں آگئی ہے اگر اتنی دور سے حلوہ کدو میرے سر پر پڑتا تو میں تو مر ہی جاتا۔غرض اس عالم کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔دنیا میں ہزاروں نہیں لاکھوں قسم کے جراثیم پائے جاتے ہیں اور انسان یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کیڑوں کو بلا وجہ پیدا کر دیا ہے مگر سائنس کی ترقی پر ثابت ہوا ہے کہ دنیا کا ہر کیٹر ا کسی اور کیڑے کے زہر کو مارنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور کوئی کیڑا بھی ایسا نہیں جو مفید کام نہ کر رہا ہو۔کئی لاکھ کیڑوں کے متعلق یہ تحقیق کی جاچکی ہے اور علم حیوانات والوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہر کیڑا کوئی نہ کوئی مفید کام کر رہا ہے اور کسی نہ کسی زہریلے مادے کو تباہ کر نے میں اس کا دخل ہے۔پھر فرماتا ہے وَهُوَا لَعَزِيزُ الْحَكِيمُ وہ خدا غالب ہے اس کے فیصلہ کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔دنیوی بادشاہتیں بدل جاتی ہیں تو ساتھ ہی ان کے فیصلے بھی بدل جاتے ہیں اور لوگوں کی گزشتہ خدمات پر پانی پھر جاتا ہے۔انگریزوں نے اپنی حکومت کے دوران میں لوگوں کو مربعے دیئے تھے مگر اب ایجیٹیشن (AGITATION ) شروع ہے کہ بڑی بڑی زمینیں اور جاگیریں واپس لے لینی چاہئیں۔اُس وقت لوگ سمجھتے تھے کہ شاید قیامت تک یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا مگر حکومت بدلی تو ساتھ ہی اس کے فیصلے بھی بدل گئے وہاں جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ ۳۵ کا قانون ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے کہہ دیا سو کہہ دیا وہ قیامت تک بدل نہیں سکتا۔پھر وہ حکیم ہے اور اُس کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت کام کر رہی ہے کوئی امر چٹی کا موجب نہیں جیسا کہ دُنیوی حکومتوں میں ہوتا ہے۔پھر فرماتا ہے وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ آسمانی علوم تقویٰ کے ساتھ وابستہ ہیں وَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ٣٦ دنیا میں تو کہا جاتا ہے کہ نوکری ملنے کے لئے بی۔اے ہونا ضروری ہے یا بی۔ایس سی ہونا ضروری ہے یا ایم۔اے ہو تب ہم اسے ملازم رکھ سکتے ہیں، یا ایم۔ایس سی کی ڈگری ضروری ہے مگر یہاں یہ بات نہیں، فرماتا ہے تم تقویٰ اختیار کرو ہم اُسی وقت تمہیں اپنے پاس سے علوم سکھانے شروع کر دیں گے۔دنیا کے ملازموں کو تو علم سیکھ کر نوکری ملتی ہے بی۔ایس سی کی ڈگری حاصل کرنا پہلے ضروری ہے اور اس کے بعد ملازمت ملتی ہے وہ بھی اپنے اندر محدود ترقی رکھتی ہے مگر یہ الہی گورنمنٹ ساتھ ہی ساتھ ہر ترقی پر مزید علم بخشتی ہے اور جب بھی کوئی شخص