سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 900

سیر روحانی — Page 18

۱۸ میں رہنے والا بنایا ہے اسی طرح اُس نے چاند بنایا اُس نے سورج بنایا۔وَاللهُ أَنْبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا - ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيْهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْوَاجًا اور انہیں دوروں میں سے جن میں خدا تعالیٰ نے تمہیں گزارا، ایک دور یہ بھی تھا کہ خدا نے تمہیں زمین میں سے نکالا اور آہستہ آہستہ تمہیں اپنے موجودہ کمال تک پہنچایا۔پیدائش انسانی کے مختلف دور یہ ابتدائی پیدائش کا نقشہ ہے جو قرآن کریم نے کھینچا۔اس سے ظاہر ہے کہ ارتقاء کا وہ مسئلہ جسے یورپ والے آج پیش کر رہے ہیں قرآن کریم نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ظاہر کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ یہ صحیح نہیں کہ انسان یکدم پیدا ہو گیا یا خُدا نے یوں کیا ہو کہ مٹی گوندھی اور اُس سے ایک انسانی بُبت بنا کر اُس میں پھونک ماردی اور وہ چلتا پھرتا انسان بن گیا بلکہ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا اُس نے کئی دوروں میں سے گزارتے ہوئے تمہیں یہاں تک پہنچایا ہے۔وَاللَّهُ أَنْبَتَكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا۔اور یہ جو درجہ بدرجہ ترقی ہوئی ہے اس میں انسان کی پیدائش دراصل زمین سے شروع ہوتی ہے۔پھر ہم اسے بڑھاتے بڑھاتے کہیں کا کہیں لے گئے ہیں۔گویا اسلام نے صاف طور پر آج سے تیرہ سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ انسان یکدم نہیں بنا بلکہ وہ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا کے مطابق کئی دوروں میں تیار ہوا ہے اور وَاللهُ أَنْبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا کے مطابق سب سے پہلے وہ زمین سے تیار ہوا ہے مگر کیا ہی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم نے تو یہ دو باتیں پیش کی تھیں کہ انسان آہستہ آہستہ تیار ہوا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ زمین میں سے پیدا ہوا ہے مگر مسلمانوں نے ان دونوں باتوں کورڈ کر دیا اور ایک طرف تو انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے یکدم بنادیا تھا اور دوسری طرف اس امر کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ یہ کہہ رہا ہے کہ ہم نے انسان کو زمین میں سے تیار کیا ہے یہ کہنا شروع کر دیا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پہلے جنت سماوی میں پیدا کیا پھر زمین پر پھینک دیا اور تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک روحوں کی تھیلی ہے وہ جس شخص کو زمین پر بھیجنا چاہتا ہے اُس کی روح چھوڑ دیتا ہے گویا جس طرح بٹیرے پکڑنے والے اپنی تھیلیوں میں سے ایک ایک بٹیرہ نکالتے جاتے ہیں ، اسی طرح خدا پہلے ایک رُوح چھوڑتا ہے پھر دوسری پھر تیسری گویا اس زمانہ کے علماء نے یہ ٹھیکہ لے لیا ہے کہ قرآن کریم میں جو بات لکھی ہوگی اس کے وہ کی ضرور خلاف کریں گے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تسلیم کیا ہے کہ انسانی پیدائش آہستگی سے ہوئی