سیر روحانی — Page 17
دیا۔پس پہلا دور انسانی تہذیب پر پتھروں کے استعمال کا آیا ہے۔(۲) پھر پیتل کے استعمال کا دور آیا۔یعنی جب انسان نے اور زیادہ ترقی کی تو اس نے اپنی حفاظت کے لئے ڈھالیں وغیرہ بنا لیں۔(۳) اور تیسرا دور لوہے کے استعمال کرنے کا تھا جب کہ انسان نے اپنی حفاظت کے لئے نیزے اور تلوار میں وغیرہ ایجاد کیں۔آثارِ قدیمہ والوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ پُرانی عمارتوں کے کھودنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسان قدیم زمانہ سے کسی نہ کسی تہذیب کا حامل ضرور رہا ہے۔پیدائش انسانی کے متعلق قرآنی نظریہ اب میں آن آثار قدیمہ کو پیش کرتا ہوں جنہیں قرآن کریم نے انسان کی پیدائش اور اس کی تہذیب کے بارہ میں پیش کیا۔پہلا حوالہ اس بارہ میں سورۃ نوح کا ہے جہاں آثارِ قدیمہ کی کچھ مثالیں پیش کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا - اَلَمْ تَرَوُا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا - وَاللهُ أنْبَتَكُم مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتاً ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجَاك موجودہ زمانہ میں جو تحقیق انسانی پیدائش کے متعلق کی گئی ہے اس کے مقابلہ میں قرآن کریم کی جو تحقیق ہے اس کا کچھ ذکر ان آیات میں ہے جو ابھی میں نے پڑھی ہیں ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کی زبان سے یہ کہلواتا ہے کہ اے انسا نو ! تمہیں کیا ہو گیا کہ تم یہ خیال نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ بے حکمت کام نہیں کیا کرتا اور جب بھی وہ کوئی کام کرتا ہے حکمت سے کرتا ہے تم اپنے متعلق تو یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص تمہیں یہ کہے کہ تم نے فلاں کام بیوقوفی کا کیا اور اگر کوئی کہے تو اس پر بُر امناتے ہو مگر تم خدا کے متعلق یہ کہتے رہتے ہو کہ اُس نے انسان کو بغیر کسی غرض کے پیدا کر دیا۔تمہیں کیا ہو گیا کہ تم اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ وَقَدْ خَلَقَكُمْ اَطوَارًا اُس نے تمہیں یکدم پیدا نہیں کیا بلکہ قدم بقدم کئی دوروں میں سے گزارتے ہوئے بنایا ہے۔اَلَمْ تَرَوُاكَيْفَ خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ه کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو ایک دوسرے کی مطابقت کی