سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 900

سیر روحانی — Page 352

۳۵۲ اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًاo فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَاخَذْنَهُ اَخُذًا وَّ بِيلًا ه فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِنْ كَفَرْتُمُ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبَا نِ السَّمَاءُ مُنْفَطِرٌ بِه كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا LO اعلان ہوتا ہے کہ ہم اس دنیا میں ایک خلیفہ مقرر کر رہے ہیں اور اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے که اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا ہم تمہاری طرف ایک رسول بنا کر بھیج رہے ہیں شَاهِدًا عَلَيْكُمْ جو تم پر نگران رہے گا اور دیکھے گا کہ تم ہماری مرضی کے مطابق چلتے ہو یا نہیں كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا اور یاد رکھو کہ ہمارا اس کو گورنر بنا کر بھیجنا کوئی نئی چیز نہیں بلکہ پہلے بھی ہم اپنے گورنر بھیجتے رہے ہیں اور لوگ غلطی سے ان کا انکار کرتے رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی وہی غلطی کرو اور اُس انجام کو دیکھو جو پہلے لوگوں نے دیکھا فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ اُس وقت کے حاکم اور بادشاہ فرعون نے تکبر کیا اور موسی کے ماننے سے اُس نے انکار کیا۔فَاخَذْنَهُ أَخُذَا وَّ بِلا اِس پر ہم نے اُس کو پکڑ کر تباہ و برباد کر دیا پس جس طرح ہم نے فرعون کو تباہ کیا ہے اگر تم ہمارے گورنر جنرل کی مخالفت کرو گے اور اس کے مقابلہ پر فرعون والا طریق اختیار کرو گے تو تم بھی تباہ کر دیئے جاؤ گے۔فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبَانِ السَّمَاءُ مُنْفَطِرٌ بِه اگر تم نے بھی انکار کیا جس طرح فرعون نے موسیٰ کا انکار کیا تھا تو تم کس طرح یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم ہمارے عذاب سے بچ جاؤ گے تم اُس دن سے ڈرو جو جوانوں کو بوڑھا کر دے گا۔وہ دُنیوی بادشاہوں کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہم اپنے گورنر سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ہماری بادشاہت کو مضبوط کرے گا بلکہ فرماتا ہے کہ ہم اس کی بادشاہت کو خود قائم کریں گے اگر تم اس کی مخالفت کرو گے تو ہم تم پر عذاب نازل کریں گے کہ جس سے آسمان بھی پھٹنا شروع ہو جائے گا۔كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا دُنیوی بادشاہ ڈرتے ہیں کہ اگر ہماری مخالفت ہوئی تو ہم کیا کریں گے مگر یہاں فرماتا ہے کہ یہ وہ وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔زمین و آسمان کا فرق کتنا زمین و آسمان کا فرق اُس دیوان عام اور اس دیوان عام میں ہے وہاں بادشاہ یہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں کو اپنا نائب مقرر کرتے ہیں اس لئے کہ وہ ہماری حکومت کو مستحکم کرے، اس لئے کہ وہ ہماری طاقت کو مضبوط کرے، اس لئے کہ وہ ہماری جڑیں لگائے مگر یہاں دیوانِ عام میں یہ اعلان ہوتا ہے کہ اے لوگو سنو!