سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 900

سیر روحانی — Page 351

۳۵۱ حاصل کئے بغیر دیوان عام کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ تھی وہ مارے مارے پھر رہے تھے اور کوئی انہیں پوچھتا تک نہیں تھا۔اب بھی بعض شہزادے ایسے ہیں جو نہایت تکلیف کے ساتھ اپنی زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں حکومت موجود ہے مگر وہ ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتی۔قرآنی دیوانِ عام کی خصوصیت پس میں نے سوچا کہ آیا اس کے مقابلہ میں قرآن کریم نے بھی کوئی دیوان عام پیش کیا ہے یا نہیں اور اگر کیا ہے تو وہ کیا ہے؟ جب اس نقطہ نگاہ سے میں نے قرآن کریم پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے خدا نے بھی ایک دیوانِ عام بنایا ہے جس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کوئی دشمن اس پر قبضہ نہیں کر سکتا وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہے اور اسی کے قبضہ اور تصرف میں ہے۔پہلے بادشاہوں کے دیوانِ عام ان کے ہاتھوں سے چھینے گئے ، غیر قومیں آئیں اور ان پر قابض ہو گئیں پہلے یہ دیوان عام انگریزوں کے پاس گئے اور اب ہند و حکومت قائم ہوئی تو اس کے پاس چلے گئے۔گویا جن مزدوروں نے یہ دیوانِ عام بنایا تھا وہ اب حاکم ہیں اور حاکم مزدور۔لیکن قرآن کریم جس دیوان عام کو پیش کرتا ہے اس میں نہ کوئی تبدیلی کر سکتا ہے اور نہ اس پر کوئی مخالفانہ قبضہ کر سکتا ہے۔محمد رسول اللہ کے تقرر پر قرآنی دیوان عام سے اعلان پھر میں نے دیکھا کہ مغل بادشاہ اور پٹھان بادشاہ اور دوسرے بادشاہ جب دیوانِ عام میں بیٹھتے تو وہ مثلاً یہ اعلان کرتے کہ ہم فلاں کو وزیر مقر ر کرتے ہیں، فلاں کو گورنر مقرر کرتے ہیں، فلاں کو اپنا نائب مقرر کرتے ہیں اور پھر ساتھ ہی یہ کہتے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ وفاداری سے حکومت کی خدمت بجالائے گا اور ہماری حکومت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے اپنا تمام زور صرف کر دیگا لیکن میں نے دیکھا کہ قرآن کریم جس دیوان عام کو پیش کرتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کسی گورنر یا خلیفہ اللہ کے تقرر کا اعلان ہوتا ہے تو بجائے یہ کہنے کے کہ ہم امید کرتے ہیں تم ہماری حکومت کو مستحکم کرو گے اور ہماری طاقت بڑھانے میں حصہ لو گے بادشاہ یہ کہتا ہے کہ ہم تمہیں طاقت دیں گے، ہم تمہیں مستحکم کریں گے ، ہم تمہارے رعب کو قائم کریں گے۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ پُرانے زمانہ کے بادشاہوں کے مقابلہ میں قرآن کریم میں بھی ایک دیوانِ عام لگایا گیا اور تمام پبلک کو مخاطب کر کے کہا گیا إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا