سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 900

سیر روحانی — Page 330

2800 Aeroplanes to the British Government۔یعنی برطانوی نمائندہ امریکہ سے تار دیتا ہے کہ دو ہزار آٹھ سو ہوائی جہاز امریکن گورنمنٹ نے برطانوی گورنمنٹ کو دیئے ہیں۔میں نے تار پڑھ کر کہا کہ اب کام ہو گیا ہے اب ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں رہی۔میں نے یہ رویا انہی دنوں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو سُنا دیا اور انہوں نے کئی برطانوی نمائندوں اور گورنمنٹ کے دوسرے ہندوستانی معزز افسروں میں اس کا ذکر کر دیا۔یہ رویا جون ۱۹۴۰ء میں میں نے دیکھا تھا۔جولائی کے مہینہ میں میں ایک دن مسجد مبارک میں بیٹھا ہو ا تھا کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اُس نے کہا کہ آپ کے نام ایک ضروری فون آیا ہے۔میں گیا تو مجھے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی آواز آئی مگر میں نے محسوس کیا کہ ان کی آواز کانپ رہی ہے۔وہ اچھے حوصلے والے آدمی ہیں مگر اس وقت ان کی آواز میں ارتعاش تھا انہوں نے کہا کہ آپ نے آج کی تازہ خبریں پڑھ لی ہیں؟ میں نے کہا پڑھ تو لی ہیں مگر مجھے تو ان میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔انہوں نے کہا مبارک ہو آپ کی خواب پوری ہو گئی ابھی تار آئی ہے جس میں لکھا ہے :- The British Representative from America Wires, that the American Government has delivered 2800 Aeroplanes to the British Government۔گویا وہی الفاظ جو رویا میں مجھے دکھائے گئے تھے ایک مہینہ کے اندر اندر پورے ہو گئے اور برطانوی نمائندے نے امریکہ سے حکومت انگلستان کو اطلاع دی ہے کہ امریکی گورنمنٹ، گورنمنٹ برطانیہ کو ۲۸۰۰ ہوائی جہاز دے رہی ہے۔رکلوبر اتمام حجت پھر انہوں نے کہا جن لوگوں کو میں نے یہ خبر سنائی تھی ان میں سے ایک سرکلو بھی تھے ( جو اُس وقت ریلوے بورڈ کے ممبر تھے اور بعد میں آسام کے گورنر مقرر ہوئے ) چونکہ خدا تعالیٰ نے اس رویا کی صداقت کو ان پر ظاہر کرنا تھا اس لئے انہوں نے تارایسی طرز پر پڑھی کہ ان کا خیال اس طرف چلا گیا کہ جو بات رؤیا میں بتائی گئی تھی وہ صحیح طور پر پوری نہیں ہوئی۔چنانچہ چوہدری صاحب نے بتایا کہ میں نے سرکلو کو فون کیا کہ سر کو تم کو یاد ہے میں نے تمہیں امام جماعت احمدیہ کی ایک رؤیا سنائی تھی جس میں یہ بتایا گیا