سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 900

سیر روحانی — Page 312

۳۱۲ بشرطیکہ وہ اپنی استعدادوں سے کام لے پہنچ سکتا اور خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر سکتا ہے۔مغفرت اور قُرب الہی کے ذرائع یہ مضمون ایک لمبی تشریح کا حامل ہے مگر اس وقت میں صرف ایک دو باتیں اور بیان کر دیتا تو ہوں جن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس طرح بنی نوع انسان کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ جو أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ ہے ان سے ملنے کے لئے نیچے آیا اور اُس نے اپنے قُرب کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے۔واقعہ معراج کے متعلق جو احادیث پائی جاتی ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے پچاس نمازیں بنی نوع انسان کے لئے مقرر فرمائی تھیں لیکن پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے ان کو کم کرتے کرتے امت محمدیہ کے لئے صرف پانچ نمازیں مقرر فرما ئیں مگر ساتھ ہی فرمایا کہ گو نمازیں پانچ ہی ہونگی مگر ان کو شمار پچاس کیا جائے گا یعنی ایک شخص پڑھے گا تو پانچ نمازیں مگر خدا تعالیٰ کے دربار میں اس کی پچاس نمازیں لکھی جائیں گی۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر ایک نیکی کے بدلہ میں انسان کو دس گنا اجر دیا جاتا ہے اور بدی یا تو معاف کر دی جاتی ہے اور یا اس کے اعمال نامہ میں صرف ایک بدی ہی لکھی جاتی ہے۔یہ طریق ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے اوپر چڑھنے کے لئے مقرر فرمایا ہے بندہ ایک نیکی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی دس نیکیاں لکھتا ہے اور پھر قیامت کے دن اُن دسوں کو ایک ایک سمجھ کر پھر دس دس بنا دیتا ہے اور بندہ ایک بدی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ صرف ایک ہی بدی لکھتا ہے اور بعض دفعہ تو ایک بھی نہیں لکھتا تو بہ پر اُس کو معاف فرما دیتا ہے۔روحانی ارتقاء کے غیر معمولی سامان غرض دَنَا فَتَدَلَّی میں وہ طریق بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ انسانی ارواح نے ارتقاء کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بغیر اس گر کے بھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتے تھے بغیر اس کے کہ آپ کی ایک نیکی کو دس گنا شمار کیا جا تا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ قابلیت موجود تھی کہ آپ خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتے اور اس کے قُرب کو حاصل کر لیتے مگر تمام لوگوں میں یہ قابلیت موجود نہیں تھی ان کے لئے خدا تعالیٰ نے عرش سے نیچے اُتر نا گوارا کیا اور اس نے ان کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بڑھانا شروع کیا تو تا کہ اس ذریعہ سے ان کی کمی پوری ہو جائے اور وہ روحانی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں اور یہ