سیر روحانی — Page 313
فضیلت صرف اسلام ہی کو حاصل ہے جس میں روحانی ارتقاء کے لئے ہر قسم کی سہولتیں رکھی گئی ہیں اور ترقیات کا دروازہ تمام بنی نوع انسان کے لئے یکساں کھولا گیا ہے۔خدائی کمان کا محمد رسول اللہ کی کمان سے اتصال فرماتا ہے فَكَانَ قَابَ قَوِسَيْنِ او ادنی جب یہ حالت ہوئی اور خدا تعالیٰ نیچے آیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ دو قوسیں آپس میں متوازی ہو گئیں اور اونچائی نیچائی کے لحاظ سے بھی اور نشانہ کی سیدھ کے لحاظ سے بھی کہ جدھر ایک تیر چلتا تھا اُسی طرف دوسرا تیر پڑتا تھا۔یا یوں سمجھ لو کہ ایک کمان زمین سے اوپر جانی شروع ہوئی اور ایک کمان اوپر سے نیچے آنی شروع ہوئی۔خدا تعالیٰ کی کمان اوپر سے نیچے اُتری اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمان نیچے سے او پر گئی چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں جو انقلاب پیدا کیا جانا مقدر تھا وہ ایسا تھا جس میں شیطان کا شکست کھانا یقینی تھا اس لئے لازمی تھا کہ آپ کے ظہور پر شیطان کا لشکر اپنی پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہوتا۔اللہ تعالیٰ اسی حملہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم اپنی کمان لے کر اوپر آؤ ہم اپنی کمان لے کر نیچے اترتے ہیں۔یہ ایک روحانی استعارہ ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ئیں اوپر چڑھنی شروع ہوئیں اور خدا تعالیٰ کی قبولیت نیچے اترنی شروع ہوئی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنی اور ایسی بن گئیں جیسے دو کمانوں کو ساتھ ساتھ ملا دیا جائے یا دو کمانیں آپس میں جوڑ دی جائیں تو جو کیفیت ان کی ہوتی ہے وہی کیفیت اس اتحاد کی تھی او اذنی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ دو کما نہیں رہی ہی نہیں ایک بن گئیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمان کا خدا تعالیٰ کی کمان کے ساتھ ایسا اتحاد ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمان کوئی الگ نہیں رہی وہ وہی تھی جو خدا تعالیٰ کی تھی گویا آسمان اور زمین کا مقصد ایک ہو گیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اتباع نے اپنے ارادے چھوڑ کر خدا کے ارادے قبول کر لئے اور خدا نے اپنے ارادے چھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اتباع کے ارادے قبول کر لئے۔تمہارے ارادے خدا تعالیٰ کے اس نکتہ کو اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ یوں بیان فرماتا ہے کہ وَمَا تَشَاءُ وُنَ إِلَّا انْ يَّشَاءَ اللَّهُ ارادوں کے تابع ہونے چاہیں إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا لا یعنی اے مسلمانو! آج سے تم یہ عہد کر لو کہ تمہارے کو