سیر روحانی — Page 290
۲۹۰ کون سا ستارہ ہے جو اوپر سے نیچے آیا، اور وہ کونسا ستارہ ہے جس کے نیچے آنے کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضال نہیں ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غاوی نہیں ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نَاطِقِ عَنِ الْهَوَىی نہیں جب تک ہم وہ ستارہ پیش نہ کریں ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کم از کم اس اعتراض سے جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے بچا نہیں سکتے۔احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کی خرابیوں کا ذکر اس نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم احادیث کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہاں سے اس امر کے متعلق بعض معلومات میسر آتی ہیں چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ میری اُمت پر ایسا آنے والا ہے جب اسلام مٹ جائے گا اور اس کی ایسی حالت ہو جائیگی کہ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسُمُهُ اور قرآن کریم کی صرف تحریر باقی رہ جائیگی۔اس کا مضمون لوگوں کے دلوں سے محو ہو جائے گا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی تو صحابہ کرام گھبرائے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اس کا علاج کیا ہے اُس وقت سلمان فارسی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ان پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ القُرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ که اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تب بھی ان فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک شخص ایسا پیدا ہو گا جو پھر آسمان سے ایمان اور قرآن کو واپس لے آئے گا۔آسمان روحانی کے ایک ستارہ کی خبر اس پیشگوئی میں آسمان روحانی کے ایک ستارہ کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو ثریا سے ایمان کو واپس لائے گا۔قرآن کریم نے تو صرف اتنا بتا یا تھا کہ آسمان سے ستارہ آئے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا کہ جب دنیا ظلمت اور تاریکی میں مبتلاء ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ ایک ایسے انسان کو مبعوث فرمائے گا جو ثریا سے ایمان کو واپس لے آئے گا، گویا ان معنوں کی رو سے إِذَا هَوای تقلیب نسبت کا رنگ رکھے گا جیسے ہماری زبان میں عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ پر نالہ چلتا ہے، لیکن کیا کبھی