سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 900

سیر روحانی — Page 289

نتیجہ ہے جو اس پر نازل ہوئی ہے۔۲۸۹ کلام چار طریق پر سُنا جاتا ہے ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان چار طرح کلام سن سکتا ہے۔اوّل اس کے افکار پراگندہ ہو جائیں۔دوم اس کا دل پراگندہ ہو کر شیطان سے اُس کا تعلق قائم ہو جائے۔اس کی ہوا وحرص تیز ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں اُس کے دل کے خیالات غالب آجائیں۔چهارم کلام الہی نازل ہو۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے یہ نہ تو ضلالت کا نتیجہ ہے نہ غوائت کا نتیجہ ہے اور نہ ہوا و ہوس کا نتیجہ ہے بلکہ اس وحی کا نتیجہ ہے جو اس پر نازل ہو گئی ہے اور جسے وہ بنی نوع انسان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔یہ نجم کیا ہے جسے خدا تعالیٰ اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضلالت میں مبتلاء نہیں ہوئے ، نجم سے کیا مراد ہے افکار کی غلطی میں مبتلاء نہیں ہوئے ، کسی فلسفیانہ غلطی میں مبتلا نہیں ہوئے وَمَا غَوی اور نہ کسی شیطان کے قبضہ میں آئے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اور نہ ہوا و ہوس اور لالچ کی وجہ سے ان کے اندر ایسے خیالات پیدا ہوئے کہ وہ ایسی تعلیم پیش کرتے جو دنیا کے لئے گمراہی کا موجب ہوتی۔ان دعوؤں کا ثبوت کیا ہے؟ فرماتا ہے ہمارے ان دعووں کا ثبوت ایک ستارہ ہے جو اوپر سے نیچے گرا، یہ اوپر سے نیچے گرنے والا ستارہ کیا ہے؟ اور ستارہ بھی ایسا جو تین زاویوں سے نیچے جُھکا اور اس نے تین خیالات کا قلع قمع کیا۔دنیا میں بعض فلسفی لوگ تھے جو یہ خیال کرتے تھے کہ فلسفیانہ باتیں پڑھ پڑھ کر اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے، بعض لوگ یہ فقرہ چست کر کے تسلی پالیتے تھے کہ کیسا بُرا آدمی ہے شیطان نے اس پر قبضہ کر لیا ہے اور اب یہ شیطانی با تیں لوگوں کو سناتا چلا جاتا ہے، کچھ اور لوگ تھے جو یہ کہ کر مطمئن ہو جاتے تھے کہ اس کے نفس میں ہوا و ہوس پیدا ہو گئی اور اس نے چاہا کہ میں بھی بڑا آدمی بن جاؤں اس لئے یہ ایسی باتیں کہہ رہا ہے۔ان کی تین خیالات کا ایک ہی رڈ ان آیات میں کیا گیا ہے فرماتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضلالت پر نہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ستارہ اوپر سے نیچے آیا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غوائت پر نہ ہو نیکا ثبوت یہ ہے کہ ایک ستارہ اوپر سے نیچے آیا ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوا و ہوس میں مبتلاء نہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ستارہ اوپر سے نیچے آیا۔وہ