سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 900

سیر روحانی — Page 286

۲۸۶ کر بھاگے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا اور آخر وہ سمندر کی موجوں میں گھر گیا تو جب وہ غرق ہونے لگا اُس وقت اس نے یہ الفاظ کہے کہ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بَنُوا إِسْرَاءِ يُلَ وَآنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ = به گویا اُسے خدا تو نظر آ گیا مگر وہ فرعون جس نے آسمان پر خدا کو دیکھنا چاہا تھا اسے خدا پاتال میں نظر آیا۔پس مینار پر چڑھ کر خدا دیکھنے کا ایک غلط خیال اس کے دل میں موجود تھا جو پورا نہ ہو سکا۔روشنی کا فقدان باقی رہا یہ امرکہ مینار روشنی دیتے ہیں یہ بھی ہمیں ان میناروں سے پورا ہوتا نظر نہیں آتا ، دنیا میں سینکڑوں مینار کھڑے ہیں مگر ان پر روشنی کا کوئی سامان نہیں ، در حقیقت مینار بنانا اور بات ہے اور اس پر روشنی کرنا اور بات۔جن لوگوں نے وہ مینار بنائے تھے جب ان کی اپنی نسلیں باقی نہ رہیں تو روشنی کون کرتا ؟ یوں کہلانے کو سب ہی مینار کہلاتے ہیں، لیکن روشنی کہیں بھی نہیں ہوتی یا کچھ عرصہ کے بعد مٹ جاتی ہے۔قطب صاحب کے مینار کو ہی لے لو آج اس پر کہاں روشنی ہوتی ہے بیشک وہ کچھ عرصہ تک روشنی دیتے رہے مگر پھر تاریک ہو گئے اور اب نہ وہ دن میں کام آتے ہیں اور نہ رات کو کام آتے ہیں ، بنانے والوں کی نسلیں تک باقی نہ رہیں تو روشنی کرنے والے کہاں سے آتے ؟ مینار بنانے والے خود زمانہ کی گردش کا شکار ہو گئے تیسری غرض یہ کبھی جاتی ہے کہ میناروں کے ذریعہ غیبی علوم حاصل ہو ا کرتے ہیں، لیکن یہ غرض بھی ہمیں کہیں پوری نظر نہیں آتی بلکہ مینار بنانے والوں نے آسمانی گردشوں سے غیب کیا معلوم کرنا تھا وہ خود اپنے آپ کو گردشوں سے نہ بچا سکے اور ختم ہو گئے۔انبیاء ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں اس جگہ کوئی کہ سکتا ہے کہ آپ لوگ جن کو روحانی سمینار کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ بھی تو ختم ہو گئے۔اگر اشو کا ختم ہوا تو آدم بھی ختم ہو گیا۔اگر دارا ختم ہوا تو نوح بھی ختم ہو گیا۔پھر ان میں اور اُن میں کیا فرق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک جہاں تک ظاہر میں ختم ہونے کا سوال ہے ہمیں دونوں ہی ختم دکھائی دیتے ہیں لیکن جہاں تک سلسلہ مذھبیہ کا سوال ہے وہ ختم نہیں ہوئے اور کبھی ختم نہیں ہو سکتے چنانچہ دیکھ لو اشوکا کا نام لیوا آج دنیا میں کوئی باقی نہیں۔دنیا کے