سیر روحانی — Page 257
۲۵۷ خریدا جا سکتا ہے۔مگر مسلمان اس ذلیل پیشکش کو کب قبول کر سکتے تھے انہوں نے نفرت اور حقارت کے ساتھ اُسے ٹھکرا دیا۔تب کسری کو غصہ آ گیا اور اس نے اپنے مصاحبوں کو اشارہ کیا کہ مٹی کا ایک بورا بھر کر لاؤ۔تھوڑی دیر میں مٹی کا بورا آ گیا، بادشاہ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ مسلمانوں کا جو شخص نمائندہ ہے یہ بورا اُس کے سر پر رکھ دیا جائے۔نوکر نے ایسا ہی کیا۔جب بورا اس صحابی کے سر پر رکھا گیا تو بادشاہ نے کہا چونکہ تم نے ہماری بات نہیں مانی تھی اس لئے جاؤ اس مٹی کے بورے کے سوا اب تمہیں کچھ نہیں مل سکتا۔اللہ تعالیٰ جن کو بڑا بناتا ہے اُن کی عقل بھی تیز کر دیتا ہے، وہ صحابی فوراً تاڑ گئے کہ یہ ایک مشرک قوم ہے اور مشرک قوم بہت وہمی ہوتی ہے۔انہوں نے اس بورے کو اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر رکھا اور اسے ایڑ لگا کر یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کہ کسری نے اپنا ملک خود ہمارے حوالے کر دیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر ایسا فضل کیا تھا کہ اُن میں سے ہر شخص بادشاہ بن گیا تھا۔یہ بھی اُن کی بادشاہی کی علامت ہے کہ ایک مسلمان غلام کا کفار سے معاہدہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دفعہ مسلمانوں کی عیسائیوں سے جنگ ہو گئی۔رفتہ رفتہ عیسائی ایک قلعہ میں محصور ہو گئے اور مسلمانوں نے چاروں طرف سے اُسے گھیر لیا اور کئی دن تک اُس کا محاصرہ کئے رکھا۔ایک دن کیا دیکھتے ہیں کہ قلعہ کا دروازہ کھلا ہے اور سب عیسائی اطمینان سے اِدھر اُدھر پھر رہے ہیں مسلمان آگے بڑھے تو انہوں نے کہا ہماری تو تم سے صلح ہو چکی ہے۔مسلمانوں نے کہا ہمیں تو اس صلح کا کوئی علم نہیں۔انہوں نے کہا علم ہو یا نہ ہو، فلاں آدمی جو تمہارا حبشی غلام ہے اُس کے دستخط اس صلح نامہ پر موجود ہیں۔کمانڈر انچیف کو بڑا غصہ آیا کہ ایک غلام کو پھسلا کر دستخط کروالئے گئے ہیں اور اس کا نام صلح نامہ رکھ لیا گیا ہے۔غلام سے پوچھا گیا کہ کیا بات ہوئی تھی ؟ اس نے کہا، میں پانی لینے آیا تھا کہ یہ لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر تم لوگ یہ یہ شرطیں مان لو تو اس میں کیا حرج ہے؟ میں نے کہا کوئی حرج نہیں۔انہوں نے کہا تو پھر لگاؤ انگوٹھا (یا جو بھی اُس زمانہ میں دستخط کا طریق تھا) اور اس طرح انہوں نے میری تصدیق کرالی آخر اسلامی کمانڈر انچیف نے کہا میں حضرت عمرؓ سے اس بارہ میں دریافت کروں گا اور وہاں سے جو جواب آئے گا اُس کے مطابق عمل کیا جائے گا چنانچہ حضرت عمرؓ کو یہ تمام واقعہ لکھا گیا آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ گو معاہدے کے لحاظ سے یہ طریق بالکل غلط ہے مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ دنیا