سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 900

سیر روحانی — Page 256

۲۵۶ وجاہت رکھنا کہ سارا عرب اُن کی حکومت کو برداشت کر لے بالکل اور بات ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلافت عطا فرمائی اور مکہ میں یہ خبر پہنچی کہ حضرت ابوبکر خلیفہ ہو گئے ہیں تو ایک مجلس جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے باپ ابوقحافہ بھی بیٹھے ہوئے تھے وہاں بھی کسی نے جا کر یہ خبر سُنا دی ابو قحافہ یہ خبر سن کر کہنے لگے، کونسا ابو بکر ؟ وہ کہنے لگا وہی ابوبکر جو تمہارا بیٹا ہے۔کہنے لگے کہ کیا میرے بیٹے کو عرب نے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا ہے؟ اُس نے کہا ہاں ، ابوقحافہ آخر عمر میں اسلام لائے تھے اور ابھی ایمان میں زیادہ پختہ نہیں تھے مگر جب انہوں نے یہ بات سنی تو بے اختیار کہہ اٹھے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله - محمد رسول اللہ ضرور بچے ہیں جن کی غلامی اختیار کر کے ابو بکر بادشاہ بن گیا اور عرب جیسی قوم نے اس کی بادشاہت کو قبول کر لیا۔تو دنیوی لحاظ سے کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ بادشاہ بن جائیں گے مگر خدا نے آپ کو بادشاہ بنا کر دکھا دیا۔شاہ ایران کی ایک ذلیل پیشکش جسے ایران میں جب مسلمان گئے تو کسری کے جرنیلوں نے اُس سے کہا کہ مسلمان اپنی طاقت وقوت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں، مانے پائے استحقار سے ٹھکرادیا طاقت وقوت : مسلمانوں۔۔ایسا نہ ہو کہ وہ ایران پر بھی چھا جائیں ، ان کے متعلق کوئی انتظام کرنا چاہئے۔کسرای نے کہا تم میرے پاس اُن کے ایک وفد کو لاؤ، میں اُن سے خود باتیں کروں گا۔جب مسلمان اس کے دربار میں پہنچے تو کسرای اُن سے کہنے لگا کہ تم لوگ وحشی اور گو ہیں کھا کھا کر زندگی بسر کرنے والے ہو۔تمہیں یہ کیا خیال آیا کہ تم ہمارے ملک پر فوج لے کر حملہ آور ہو گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ نے جو کچھ کہا بالکل ٹھیک ہے، ہم ایسے ہی تھے بلکہ اس سے بھی بدتر زندگی بسر کر رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور اُس نے اپنا نبی بھیج کر ہماری کایا پلٹ دی، اب ہر قسم کی عزت خدا تعالیٰ نے ہمیں بخش دی ہے۔کسرای کو یہ جواب سن کر سخت طیش آیا مگر اُس نے کہا میں اب بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ہم سے کچھ روپے لے لو اور چلے جاؤ۔چنانچہ اس نے تجویز کیا کہ فی ھے افسر دو دو اشرفی اور فی سپاہی ایک ایک اشرفی دیدی جائے۔گویا وہ مسلمان جو فتح کرتے ہوئے عراق تک پہنچ چکے تھے اور جن کی فوجیں ایران میں داخل ہو چکی تھیں اُن کا اُس نے اپنی ذہنیت کے مطابق یہ نہایت ہی گندہ اندازہ لگایا کہ سپاہیوں کو پندرہ اور افسروں کو تمیں تمہیں روپے دیکر