سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 900

سیر روحانی — Page 177

122 پتھروں کو تو ڑ لیا؟ عربی زبان میں ب کے معنے علی کے بھی ہوتے ہیں اور کبھی قلب نسبت بھی ہو جاتی ہے جیسے کہتے ہیں پرنالہ چلتا ہے تو تَرْمِيهِمُ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيلٍ کے معنے یہی ہیں کہ وہ ان کی بوٹیاں پتھروں پر مار مار کر کھاتے تھے اور یہی چیلوں وغیرہ کا طریق ہے۔وہ بوٹی کو پتھر پر مارتی اور پھر کھاتی ہیں۔تو وہ جو کعبہ کے پتھر توڑنے چلا تھا اس کی بوٹیاں جانوروں نے پتھر پر مار مار کر کھا ئیں۔مسیحی اس روحانی قلعہ کی طرف نہ بڑھ سکے جب میں نے یہ نظارہ دیکھا تو میں نے کہا کون کہہ سکتا ہے کہ اس قلعہ پر حملہ نہیں ہوا۔حملہ ہوا اور اس میں یہ قلعہ مضبوطی سے قائم رہا۔اس کے بعد اور زمانہ گزرا۔ایک دفعہ مسیحیوں نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور میں نے دیکھا کہ وہ باوجود اس غصہ کے کہ مسلمانوں نے اُن کے معاہد پر قبضہ کیا ہے اس قلعہ کی طرف نہ بڑھ سکے۔ہلاکو خاں بھی اس قلعہ کو کوئی گزند نہ پہنچا سکا اور ایک دفعہ ہلاکوخاں نے بغداد اور اسلامی ممالک کو تباہ کیا مگر اس قلعہ کو وہ بھی کوئی گزند نہ پہنچا سکا۔پھر جنگِ عظیم کا وقت آیا اور شرک جن کے قبضہ میں یہ قلعہ تھا وہ فاتح اقوام کے خلاف کھڑے ہو گئے۔میں نے کہا اب اس قلعہ کے لئے خطرہ ہے مگر تب بھی یہ محفوظ رہا اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خاص سامان پیدا کر دیئے پھر یہ نئی جنگ شروع ہوئی تو کی میں نے دیکھا کہ اب کے پھر دونوں فریق اس کی حفاظت کا اعلان کر رہے تھے۔غرض ہزاروں سال کی تاریخ میں اس عجیب و غریب قلعہ کو دنیا کا مقابلہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا اور ہمیشہ مجھے یہ محفوظ و مصئون ہی نظر آیا۔یہ نہیں کہ اس کے کبھی مغلوب ہونے کی خبر ہو۔بعض احادیث میں آتا ہے کہ ایک وقت یہ مغلوب ہوگا اور کعبہ گرایا جائے گا مگر ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بات قیامت کی علامت ہوگی۔اب اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عارضی طور پر دشمن اس پر قبضہ کرے گا مگر اس پر قیامت آجائے گی اور وہ فتنہ اور خونریزی ہوگی کہ الامان اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ حقیقی قیامت کے وقت جب اس کی کی ضرورت نہ رہے گی ، اس قلعہ کا مالک اسے گرنے دے گا۔اس عظیم الشان قلعہ کی حفاظت کیلئے ایک اور چھوٹے قلعہ کی تعمیر اب اس زمانہ میں کہ اس قلعہ