سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 900

سیر روحانی — Page 167

۱۶۷ علاقہ ایسا ہو کہ اُس میں خوراک کے ذخائر کافی ہوں اور کافی مقدار میں غلہ پیدا ہو سکے تا محصور ہونے کی صورت میں فوج خوراک کے ذخائر جمع کر سکے۔(۴) چوتھے قلعہ بالعموم ایسی جگہ بنایا جاتا ہے جس کے ارد گر دیا جس کے پاس جنگل ہوں جہاں سے ایندھن کافی جمع ہو سکے اور دشمن پر حملہ کرنے میں سہولت ہو چنانچہ گوریلا وار یا کی جنگ چپاول جنگلوں میں بڑی آسانی سے کی جاسکتی ہے اسی لئے عام طور پر قلعے جنگلوں کے قریب بنائے جاتے ہیں تا کہ تھوڑی فوج بھی بڑے غلیموں کو دِق کر سکے۔(۵) پانچویں اگر پہاڑی علاقہ ہو تو قلعہ ہمیشہ اونچی جگہ پر بنایا جاتا ہے تا کہ سب طرف نگاہ پڑ سکے اور دشمن تو حملہ نہ کر سکے مگر خود آسانی سے حملہ کیا جاسکے۔- (1) چھٹے قلعہ کی تعمیر نہایت اعلیٰ درجہ کے چونہ اور پتھروں سے کی جاتی ہے تا کہ اگر دشمن اس پر گولے برسائے یا کسی اور طرح حملہ کرے تو اس کی دیواروں کو شعف نہ پہنچے۔(۷) ساتویں قلعہ کی تعمیر اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ شہر کی حفاظت کر سکے اور اس کی فصیلیں شہر کے گر د پھیلتی جائیں۔(۸) آٹھویں اس کی طرف آنے والے راستے ایسے رکھے جاتے ہیں جن کو ضرورت پر کی آسانی سے بند کیا جاسکتا ہو مثلاً تنگ وادیوں میں سے راستے گزریں تا کہ چند آدمی ہی دشمن کو قلعہ سے دُور رکھ سکیں۔(۹) نویں قلعوں میں یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ اس کے گر دار گر دکو خوب مضبوط کیا جائے اور جنگی چوکیوں کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کی جائے۔(۱۰) دسویں قلعہ کے اندر رہنے والوں کو بہادر اور جنگجو بنایا جاتا ہے تا کہ وہ دشمن سے خوب لڑسکیں۔(۱۱) گیارھویں اس میں حملہ کرنے ، تو پوں سے بم پھینکنے یا منجنیقوں سے پتھراؤ کرنے کے لئے باہر کی طرف سوراخ ہوتے ہیں اور اس میں باہر کی طرف تو ہیں یا منجنیقیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔یہ وہ گیارہ خصوصیتیں ہیں جو عام طور پر قلعوں کی تعمیر میں بڑے بڑے انجینئر مدنظر رکھا کرتے ہیں۔یہ روحانی قلعہ ایسی جگہ پر بنایا گیا جہاں پانی کم یاب تھا اب میں نے کہا آؤا یہ قلعہ جو قرآن نے پیش کیا