سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 900

سیر روحانی — Page 168

۱۶۸ ہے اس پر غور کر کے دیکھیں کہ یہ باتیں اس میں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ اور میں نے ایک ایک کر کے ان امور کی اس روحانی اصول پر تیار محدہ قلعہ کے متعلق پڑتال کی اور میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ :- (۱) اس قلعہ کے لئے پانی کا کوئی انتظام نہ تھا صرف ایک چشمہ اس کے قریب تھا اور وہ بھی کی کھاری اور پھر اس کا پانی بھی اتنا کم تھا کہ لوگوں کی ضروریات کے لئے کسی صورت میں کافی نہیں تھا۔ملکہ زبیدہ نے بعد میں وہاں ایک نہر بنوا دی تھی جسے نہر زبیدہ کہتے ہیں مگر وہ نہر ایسی ہی ہے جیسے کوئی نالا ہوتا ہے۔غرباء عام طور پر زمزم کا پانی استعمال کرتے ہیں اور باقی لوگ بارش ہوتی ہے تو تالابوں میں پانی جمع کر لیتے ہیں اور اسے استعمال کرتے رہتے ہیں۔غرض وہاں پانی کی اتنی کمی ہے کہ دنیا کا کوئی سمجھ دار انجینئر وہاں قلعہ نہیں بنا سکتا تھا۔یہ روحانی قلعہ دریا اور سمندر سے دُور بنایا گیا (۲) دوسری بات میں نے یہ دیکھی کہ آیا وہ کسی نہر یا دریا یا سمندر کے کنارے واقع ہے تو مجھے معلوم ہوا کہ نہ وہاں کوئی دریا ہے نہ سمندر ، گویا اس بارہ میں بھی خانہ خالی تھا اور نہر یا دریا کا نام و نشان منزلوں تک نہ تھا۔وہ جسے لوگ نہر زبیدہ کہتے ہیں وہ صرف نالی ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔رہی بندرگاہ سو وہ سو ڈیڑھ سو میل دور تھی اور اب نئی بندرگاہ جدہ بھی پچاس میل کے قریب دُور ہے گویا سمندر بھی دُور ہے اور اندر بھی کوئی نہر نہیں کہ لوگ کثرت سے فوجی ضروریات کے لئے اونٹ اور گھوڑے وغیرہ رکھ سکیں بندرگاہ بے شک موجود تھی مگر اول تو وہ اتنی دور تھی کہ اس سے کوئی فائدہ اُٹھایا نہیں جاسکتا تھا۔دوسرے اگر ممکن بھی ہوتا تو وہاں کے باشندوں کی یہ حالت تھی کہ ان کا سمندر کے نام سے دم نکلتا تھا۔(۳) تیسری بات یہ دیکھی جاتی ہے کہ یہ یہ روحانی قلعہ ایک بنجر علاقہ میں بنایا گیا (۳) تیسری بات ہے علاقہ زرخیز ہوتا کہ خور و نوش کا سامان وك پیدا کیا جا سکے اور بوقت ضرورت جمع کیا جا سکے۔مگر میں نے دیکھا کہ اس قلعہ کو جو بنانے والا ہے وہ خود کہتا ہے کہ بوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ یہ وادی غَيْرِ ذِي زَرْعٍ ہے اور اس میں ایک دانہ تک پیدا نہیں ہوتا نہ گیہوں، نہ باجرا، نہ گندم، نہ چنا۔بلکہ ایک شخص نے وہاں باغی لگا نا چاہا تو اس کے لئے وہ دوسرے ملکوں سے مٹی منگواتا رہا اور آخر بڑی مشکل سے اس نے چند درخت لگائے اور وہی چند درخت اب باغ کہلاتے ہیں۔میں نے خود اس قلعہ کو جا کر