سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 900

سیر روحانی — Page 118

۱۱۸ کے کہ اس غلطی کے بارہ میں خدا تعالیٰ مجھ سے جواب طلبی کرے۔جب آپ نے یہ فرمایا تو ایک صحابی اُٹھے اور انہوں نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میرا ایک حق آپ کے ذمہ ہے آپ نے فرمایا کیا؟ اس نے کہا فلاں موقع پر جبکہ آپ لڑائی میں مسلمانوں کی صفیں درست کر رہے تھے، اگلی صف میں کچھ خرابی تھی آپ صف میں راستہ بنا کر آگے گزرے تو آپ کی گہنی مجھے لگ گئی۔آپ نے فرمایا کہاں لگی تھی ؟ اُس نے پیٹھ پر ایک جگہ دکھائی اور کہا اس جگہ لگی تھی ، آپ اُس وقت بیٹھ گئے اور فرمایا میرے بھی اسی جگہ کہنی مارلو۔اس صحابی نے کہا یا رَسُولَ اللهِ! اُس وقت میرے تن پر گر تا نہیں تھا، نگا جسم تھا اور ننگے جسم پر آپ کی کہنی لگی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا اور یہ کہ کر آپ نے پیٹھ پر سے کپڑا اٹھایا اور فرمایا اب تم کہنی مارلو۔صحابہ کی حالت کا تم اُس وقت اندازہ لگا سکتے ہو، ایک طرف ان کے دلوں میں یہ جذبات موجزن تھے کہ خدا کا رسول عنقریب ہم سے جُدا ہونے والا ہے اور اس وجہ سے اُن کے دل سوز وگداز سے بھرے ہوئے تھے اور دوسری طرف اس صحابی کا یہ مطالبہ ان کے سامنے تھا۔اگر ان کا بس چلتا تو وہ یقیناً اس صحابی کی تکہ بوٹی کر دیتے مگر اسلامی شریعت انہیں روک رہی تھی اس لئے وہ خون کے گھونٹ پی پی کر صبر کر گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرتا اُٹھایا اور فرمایا تم نے ٹھیک کیا کہ مجھ سے اب بدلہ لینے لگے ہو اور قیامت پر اُٹھا نہیں رکھا۔تو وہ صحابی جنھوں نے مطالبہ کیا تھا پر نم آنکھوں کے ساتھ آپ پر جھکے اور آپ کی پیٹھ پر بوسہ دیتے ہوئے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! بیشک مجھے آپ کی گہنی لگی تھی مگر میں نے یہ سارا بہانہ اس وقت صرف اس لئے بنایا تھا تاکہ میں اس وقت کہ آپ اپنی جُدائی کا ذکر کر رہے ہیں آخری دفعہ آپ کے جسم کو بوسہ دے لوں کا یہ کس قدر زبر دست مساوات ہے جو اسلام نے قائم کی۔کیا دنیا اس مساوات کی کوئی بھی نظیر پیش کر سکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح مسجد میں امیر اور غریب کا امتیاز اُٹھ جاتا ہے، بادشاہ اور رعایا کا فرق جاتا رہتا ہے، اسی طرح اسلام میں داخل ہونے کے بعد تمامی مساوات کے دائرہ میں آجاتے ہیں اور کسی کو کسی دوسرے پر فضیلت نہیں رہتی۔حضرت عمرؓ کے عہد خلافت کا ایک زرین واقعہ پھر یہ عمل آپ تک ہی ختم نہیں ہو گیا بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی برابر جاری رہا، حضرت عمرؓ کا ایک مشہور واقعہ ہے جس کے نتیجہ میں گو آپ کو تکلیف بھی کی اُٹھانی پڑی مگر آپ نے اس تکلیف کی کوئی پرواہ نہ کی اور وہ مساوات قائم کی جو اسلام دنیا میں