سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 900

سیر روحانی — Page 117

فرمایا خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اُس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔پھر آپ نے فرمایا ، دیکھو پہلی تو میں یعنی یہود اور نصاری اس لئے تباہ ہوئیں کہ جب اُن میں سے کوئی بڑا آدمی مجرم کرتا تو اُسے سزا نہ دیتے ، جب کوئی چھوٹا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دیتے۔مگر اسلام میں اس قسم کا کوئی امتیاز نہیں اور ہر شخص جو مجرم کرے گا اسے سزا دی جائیگی خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔تمدنی معاملات میں مساوات کی اہمیت پھر اسلام نے مساوات کوتد نی پہلو میں اتنی عظمت دی ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کوئی شخص آپ کے پاس دودھ بطور تحفہ لایا۔آپ نے کچھ دودھ پیا اور پھر خیال آیا کہ کچھ دودھ حضرت ابو بکر کو دیدوں کیونکہ وہ بھی اُس وقت مجلس میں موجود تھے کی اور پھر آپ کے رشتہ دار بھی تھے۔مگر آپ نے دیکھا کہ وہ دائیں طرف نہیں بیٹھے بلکہ بائیں طرف بیٹھے ہیں اور دائیں طرف ایک نو جوان بیٹھا ہے۔اسلام نے چونکہ دائیں طرف والے کا حق مقدم رکھا ہے اس لئے آپ نے اُس لڑکے سے کہا کہ اگر تم اجازت دو تو میں یہ دودھ ابو بکر کو دیدوں اس لڑکے نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ میرا حق ہے یا آپ یونہی مجھ سے پوچھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا۔بات یہ ہے کہ دائیں طرف بیٹھنے کی وجہ سے اس دودھ پر تمہارا حق ہی ہے مگر میں تم سے اجازت چاہتا ہوں کہ اگر کہو تو ابو بکر کو دودھ دے دوں۔اس نے کہا يَارَسُوْلَ اللہ ! جب یہ میرا حق ہے تو پھر آپ کے تبرک کو کوئی کس طرح چھوڑ سکتا ہے اور یہ کہہ کر اس نے دودھ کا پیالہ آپ سے لیکر پینا شروع کر دیا۔۱۳ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرض الموت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ایک واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح اسلام میں مساوات کا خیال رکھا جاتا ہے۔جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو صحابہ کو آپ نے بار بار خدا تعالیٰ کی وحی سے خبر دی اور بتایا کہ اب میرا زمانہ وفات نزدیک ہے۔اُس کی وقت ان پر ایک عجیب رقت طاری تھی اور دلوں میں سوز وگداز پیدا تھا۔ایک دن آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے صحابہ کو نصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا۔اے لوگو! اسلامی قانون کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ، اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو مجھ سے بدلہ لے لو۔اور فرمایا کہ اس معاملہ میں اگر دنیا میں مجھے سزا مل جائے تو میں اسے زیادہ پسند کروں گا بہ نسبت اس کی