سیر روحانی — Page 94
۹۴ سیاہی بنالی جائے اور ان قلموں اور سیاہیوں سے خدا تعالیٰ کی اس پاک کتاب کے معارف لکھے جائیں تب بھی قلمیں ٹوٹ جائیں گی ، سیاہیاں خشک ہو جائینگی ، مگر اس کتاب کے معارف ختم نہیں ہوں گے لیکن یہ دو چار سو صفحوں کی چند جلدیں لکھنے کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ اب ان باتوں سے زیادہ کوئی اور بات بیان کرنی حرام ہے۔میں کہتا ہوں اور میں کیا خدا کا کلام کہ رہا ہے کہ جس دن تم سارے درختوں کی قلمیں بنا کر اور سارے سمندروں کی سیاہی بنا کر ان سے قرآن کے معارف لکھ لو گے تو اس کے بعد تم بیشک میرے پاس آجانا اور کہنا کہ اب قرآن کی اور تفسیر متن کر ولیکن دنیا نے ابھی تو قرآن کی تفسیر لکھنے میں ایک جنگل کی لکڑی بھی ختم نہیں کی اور سمندر چھوڑ ایک کنویں کے پانی جتنی سیاہی بھی اس پر خرچ نہیں کی۔پس ابھی ہمیں اس حق سے کوئی روک نہیں سکتا اور یہ حق ہمارا اُس وقت تک چلتا چلا جائے گا جب تک سمندروں میں پانی کا ایک قطرہ بھی موجود ہے۔یا درخت کی ایک شاخ بھی دنیا میں پائی جاتی ہے ہاں تمہارا بے شک یہ حق ہے کہ تم ثابت کرو کہ ہم قرآن کریم کی جو تفسیر کرتے ہیں وہ اسلام کے خلاف ہے، اس بات سے تمہیں کوئی نہیں روکتا مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تم قرآن کے نئے معانی کیوں کرتے ہو میں ان سے کہتا ہوں کہ اے نالائقو ! اور اے احمقو! تم تو خشکی میں تڑپ رہے ہوا ور ہم خدا تعالیٰ کے ایک وسیع سمندر میں غوطے لگا رہے ہیں۔تم ریت کے تودوں پر کو ٹتے ہو اور طعنے ان لوگوں کو دے رہے ہو جو سمندر کی تہہ سے موتی نکالنے والے ہیں۔پس خدا سے ڈرو اور خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے بحر ز خار کو پتوں کی کشتیوں میں پار کرنے کی کوشش نہ کرو اور کو دکر اس کو پھلانگ جانے کے دعووں سے اپنی نادانی ظاہر نہ کرو۔میں نے جب ان باتوں کو دیکھا تو میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی اور میں نے کہا، افسوس خزانے موجود ہیں، قلعے موجود ہیں ، رصد گاہیں موجود ہیں، سمندر موجود ہے مگر ان کو دیکھنے والا کوئی نہیں ، آثار قدیمہ کی جن لوگوں کے ہاتھوں میں خدا نے کنجیاں دی تھیں اُنہوں نے کی اُن آثار قدیمہ کو خراب کر دیا ، تباہ کر دیا اور اس قدر ان کی حالت کو مشتبہ کر دیا کہ ان پر کوئی شخص اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا تھا تب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ قرآن کریم کو نازل کیا۔یہ آپ کے دل کا خون ہی تھا جو آسمان سے قرآن کو کھینچ لایا۔اس قرآن کے آثار قدیمہ کے مختلف کمروں میں آدم اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور ہارون اور دیگر تمام انبیاء کی چیزیں ایک قرینہ سے پڑی ہوئی ہیں میل وکچیل سے مبرا داغوں اور دھبوں سے۔