سیر روحانی — Page 93
۹۳ کہ ہم نے قرآن میں ہر قسم کی باتیں بیان کر دی ہیں ، مگر افسوس انسان پر کہ وہ ہر بات کو سنکر کہتا ہے کہ ابھی اور چاہئے اور جو بات اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اس کا انکار کر دیتا ہے، اگر اس کے اندر ایک ذرہ بھی شرافت کا مادہ ہوتا تو یہ ان باتوں کو قبول کرتا جو اس کے سامنے پیش کی گئی تھیں اور اگر دل میں اُن کے بعد بھی پیاس رہتی تو کسی اور چیز کی طلب کرتا ، مگر یہ عمل تو کرتا نہیں اور اور چیزیں مانگے جاتا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ہدایت سے کوئی غرض نہیں محض ایک پاگل اور احمق انسان کی طرح ہاتھ پھیلائے کہے جاتا ہے کہ اور دو، اور دو۔اور یہ نہیں دیکھتا کہ جو اسے دیا گیا ہے اسے اس نے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک رکھا ہے اسی طرح فرمایا۔وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَذَا الْقُرآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ۵۲ ہم نے قرآن میں انسان کے نفع کے لئے ہر چیز رکھدی ہے مگر افسوس کہ وہ پھر بھی اس پاک کتاب کا انکار کئے جاتا ہے۔یہی مضمون سورہ روم ع 4 اور سورہ زمرع ۳ میں بھی بیان ہوا ہے۔قرآنی سمندر کی گہرائیوں کا پتہ لگانا کسی انسانی معقل کا کام نہیں یہ وہ سمندر ہے جو میں نے دیکھا اور یہ وہ بحر ذخار ہے جس کا میں نے مشاہدہ کیا، اس سمندر کا کوئی کنارہ نہیں، اس سمندر کی کوئی انتہا نہیں۔اس سمندر کی گہرائیوں کا پتہ لگا نا کسی انسانی عقل کا کام نہیں اور اس کی وسعتِ بے پایاں کو کوئی انسانی دماغ نہیں سمجھ سکتا۔مجھے حیرت ہوتی ہے، مجھے تعجب آتا ہے، مجھے رونا آتا ہے کہ معمولی معمولی خلیجوں کے کنارے ہمارا ایک سیاح یا شاعر کھڑا ہوتا اور فرطِ مسرت میں جھومتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کا کوئی کنارہ نہیں یہ بے کنار خلیج یا بے کنار دریا ہے حالانکہ ایک دن کی منزل یا دو دن کی منزل پر اس کا کنارہ موجود ہوتا ہے۔بڑے بڑے سمندروں کا بھی دس پندرہ دن کے سفر کے بعد کنارہ آ جاتا ہے ، مگر وہ اس کنارے والے سمندر کے متعلق کہتا ہے کہ وہ بے کنار ہے پس مجھے حیرت ہوئی اور میرا دل اس غم سے خون ہو گیا کہ وہ عظیم الشان سمندر جسے خدا نے بے کنار کہا، جس کی وسعت کو اس نے خود غیر محدود قرار دیا اور جس کے کنارہ کو کوئی انسانی عقل تلاش نہیں کر سکتی اس کے متعلق مولویوں کو یہ کہتے ہوئے ذرا شرم نہیں آتی کہ اس کی آیات کی طبری کی اور بیضاوی نے جو تفسیر لکھ دی ہے اب اس کے بعد کچھ اور کہنا تفسیر بالرائے ہے۔یقیناً وہ جھوٹے ہیں ، کیونکہ خدا کہتا ہے کہ اگر ساری دُنیا کے درختوں کی قلمیں بنائی جائیں اور سات سمندروں کی