سیر روحانی — Page 88
۸۸ یعنی کمزور اور غریب اور مزدور اقوام کی تعلیم یا تربیت سے غفلت یا اولاد کی تربیت سے اعراض یہ سب بالواسطه اخْسَار فِی الْمِیزَان ہے۔یعنی کو عقیدہ انہیں ادنی نہیں سمجھا جاتا ، لیکن عملاً ان سے سلوک وہی ہوتا ہے جو غیر ضروری حصہ سے ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ وہ افراد بھی قانونِ قدرت کے مطابق قوم کا ضروری حصہ ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری مشین خراب ہو جاتی ہے اور نظام ملکی یا تو قومی درہم برہم ہو جاتا ہے۔دیکھو کس خوبی سے اوّل نظام عالم کی حقیقت بیان کی ہے اور پھر نظام انسانی کو اس پر چسپاں کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے بابلیوں نے اور ان کے بعد یونانیوں نے نظام شمسی پر نظام تمدن کو ڈھالنے کی کوشش کی ہے مگر جس خوبی ، جس اختصار اور جس ہمہ گیری کے ساتھ قرآن کریم نے چند مختصر الفاظ میں ان دونوں نظاموں کی حقیقت اور مماثلت کو بیان کیا ہے اس کی نظیر ان اقوامِ عالم کے فلاسفروں کے کلام میں نہیں پائی جاتی۔اور مسائل بھی علم ہیئت کے قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں مگر اجمالاً انہیں امور پر کفایت کی جاتی ہے۔(۳) ایک وسیع اور عظیم الشان سمندر تیسری چیز جو میں نے دیکھی تھی سمند ر تھا، میں نے اس وقت اپنے دل میں کہا کہ ایک اور سمندر قرآن نے پیش کیا ہے مگر افسوس کہ لوگ اسے بھول گئے ہیں وہ اس کی طرف سے ہنس کر گزر جاتے بلکہ اُسے حقیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ سمندر خود ہماری کتاب قرآن کریم ہے۔سمند ر کیا ہوتا ہے؟ سمندر کے معنے ایک ایسی وسیع چیز کے ہیں جس کا کنارہ نظر نہیں آتا اور جس میں موتی ہونگا اور اسی قسم کی اور بیسیوں قیمتی چیزیں ہوتی ہیں۔میں نے دیکھا کہ اس قسم کی ایک چیز ہمارے پاس بھی ہے مگر افسوس کہ ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ہم موتی نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں ، ہم مونگا نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، ہم مچھلیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، ہم مچھلیوں کا تیل نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، ہم سیپیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں ، ہم کوڑیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، مگر ہم نہیں قدر کرتے تو اُس شخص کی جو قرآن کریم کے سمندر میں سے قیمتی موتی نکال کر ہمارے سامنے پیش کرے، حالانکہ یہ وہ سمندر ہے کہ جس