سیر روحانی — Page 838
تو اچانک وفات پائی تابوت پہلے امانا فیض آباد میں دفن کیا گیا پھر دہلی میں مقبرہ تیار ہو گیا تو وہاں منتقل کیا گیا۔صفدر جنگ کا مقبرہ دہلی سے قطب صاحب کو جانے والی سڑک پر واقع ہے سنگِ سُرخ کا یہ مقبرہ بڑا پُر شکوہ اور وسیع ہے جا بجا سنگ مرمر کی دھاریاں اور چوکے ہیں۔گنبد پورا سنگِ مرمر کا ہے ارد گرد چار دیواری ہے۔چاروں طرف چار نفیس نہریں بنائی گئی ہیں۔باغ میں تین طرف خوبصورت مکان بنے ہوئے ہیں جنوبی جانب کے مکان کا نام ”موتی محل مغربی جانب کے مکان کا نام ” جنگلی محل“ اور شمالی جانب کے مکان کا نام ”بادشاہ پسند ہے مشرقی جانب دروازہ ہے جس کے اوپر خوبصورت بارہ دری بنی ہوئی ہے۔جنتر منتر (دہلی) دہلی کے اجمیری دروازے سے قطب صاحب کی طرف جائیں تو تیسرے میل پر عجیب و غریب اور مختلف وضع کی دیواریں سی بنی ہوئی ہیں جنہیں جنتر منتر کہتے ہیں۔اس کو مہا راجہ آف جے پور سوائے جے سنگھ ثانی نے ۱۷۲۴ء میں محمد شاہ کے کہنے پر بنوایا تھا۔دراصل یہ ایک رصد گاہ تھی جس کے ذریعہ سورج ، چاند اور ستاروں اور سیاروں کی محوری اور خلائی گردشوں کا علم حاصل کیا جاتا تھا۔جے سنگھ نے ایسے ہی جنتر منتر، متھرا ، بنارس ، اوجین اور جے پور میں بھی بنوائے تھے۔کہا جاتا ہے کہ تانبے کے آلات کی بجائے ان تعمیرات کے ذریعہ زیادہ صحیح زائچے تیار کئے جاسکتے تھے۔راجا جے سنگھ کوعلم ہیئت ونجوم میں مہارت تامہ حاصل تھی۔مدت سے دیکھ بھال نہ ہو سکنے کے باعث اب یہ عمارت کارآمد نہیں رہی۔قلعہ کوٹلہ فیروز شاہ (حوض خاص) شاہ جہاں آباد سے قطب صاحب جاتے ہوئے آخری مقام سے تھوڑے فاصلے پر دہلی گیٹ کے جنوب کی طرف ایک جگہ سری سٹی کے نام سے معروف ہے جو آجکل حوض خاص کہلاتا ہے جسے علاؤالدین خلجی نے ۱۲۹۵ء میں بنوایا تھا فیروز شاہ تغلق (۸۸-۱۳۸۱ء) نے اسے پانچویں شہر کے طور پر آباد کیا اور اپنے نام کی مناسبت سے اس کا نام تبدیل کر کے فیروز آباد رکھ دیا۔یہاں قلعہ فیروز شاہ کوٹلہ بھی تعمیر کیا گیا۔مزید کشش پیدا کرنے کے لیے تیسری صدی ق م کے دور کا ایک ۱۳ میٹر اونچا بھر بھرے پتھر کاستون بھی انبالہ سے جمنا کے راستے یہاں لا کر نصب کر دیا گیا۔فیروز شاہ نے یہاں ایک شاہی حوض نہایت عظیم الشان قسم کا بنوایا تھا۔فیروز شاہ تغلق غیاث الدین کی وفات (۱۳۸۸) پر مندنشین ہوا۔جنگجو نہ تھا مگرکوٹ ( کانگڑہ) کیا۔سندھ خود مختار ہو چلا تھا اسے سلطنت میں شامل کیا۔بنگال پر حملہ کیا