سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 802 of 900

سیر روحانی — Page 802

۸۰۲ تو رات میں ان کے متعلق پیشگوئی تھی کہ ان پر دو دفعہ تباہی آئے گی اور وہ بیت المقدس سے نکالے جائینگے چنانچہ اُن کی پہلی تباہی نبو کد نضر بادشاہ کے حملہ سے ہوئی اور دوسری تباہی ٹائیٹس رومی کے ذریعہ سے ہوئی جو مسیح کے صلیب کے واقعہ کے ستر سال بعد یہودیوں پر حملہ آور ہوا تھا ان واقعات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَاءِ يُلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ حِمْنَا بِكُمْ لَفِيفًا ۵۴ یعنی فرعون کے سمندر میں ڈوب مرنے کے بعد ہم نے بنی سرا ئیل کو کہہ دیا تھا کہ تم فلسطین میں جا کر آباد ہو جاؤ لیکن ایک وقت کے بعد تم کو فلسطین سے نکلنا پڑے گا اور پھر خدا تعالیٰ تم کو واپس لائے گا۔پھر تم نافرمانی کرو گے اور تم پر دوسری دفعہ عذاب آئے گا۔پھر تم جلا وطن رہو گے یہاں تک کہ تمہاری مثیل قوم یعنی مسلمانوں کی تباہی کے متعلق جو دوسری خبر ہے اُس کا وقت آ جائے گا اُس وقت پھر تم کو مختلف ملکوں سے جمع کر کے ارض مقدس میں اکٹھا کر دیا جائے گا۔پس اس آیت میں بنی اسرائیل کے فلسطین پر قابض ہونے کی پیشگوئی تھی جو اب پوری ہو چکی ہے۔میں نے جب پہلی تفسیر کبیر جو سورۃ یونس سے لے کر سورۃ کہف تک کی تفسیر پر مشتمل ہے لکھی تھی تو میں نے اُس میں استدلال کیا تھا کہ ان آیات میں بنی اسرائیل کے فلسطین پر قابض ہونے کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے۔ایک دفعہ میں شملہ گیا اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے ہاں مہمان ٹھہرا۔اُنکے ہاں اُسوقت خان علی قلی خاں بھی بطور مہمان ٹھہرے ہوئے تھے ( جو لفٹینٹ جنرل حبیب اللہ خاں صاحب کے والد تھے ) انہوں نے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے تفسیر کبیر مطالعہ کے لئے مانگی۔پارٹیشن کے بعد انہوں نے مجھے لکھا کہ جب میں نے آپ کی تفسیر میں یہ پڑھا کہ بنی اسرائیل ایک وقت میں پھر فلسطین پر قابض ہو جا ئیں گے تو مجھے بوجہ پٹھان ہونے کے سخت غصہ آیا کیونکہ ہم تو بنی اسرائیل کے دشمن ہیں اور آپ نے لکھا تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین پر قابض ہو جائیں گے لیکن جب امریکہ اور انگریزوں کی مدد سے بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہو گئے تو مجھے بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ قرآن کریم سچا ثابت ہوگیا کیونکہ یہ واقعہ قرآن کریم کی اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔قرآن کریم میں جغرافیہ کا ذکر پھر قرآن کریم میں جغرافیہ کا علم بھی بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قوم سبا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُن کا ملک بہت بڑا تھا اور اُن کے ملک سے فلسطین تک بستیاں ہی بستیاں چلی جاتی تھیں