سیر روحانی — Page 712
۷۱۲ سکھ دیجیو۔اور اگلے جہان میں ہم کو پتہ ہے کہ پھر جوڑا ہے، ایک دوزخ ہے اور ایک جنت ہے۔گو یا جوڑا وہاں بھی ختم نہیں ہوتا تو ہم کو اس جوڑے میں سے جو دوزخ والا حصہ ہے اُس سے بچائیو اور اس جوڑے میں سے جو جنت والا حصہ ہے وہ عطا کیجیو۔بلکہ پھر آگے چل کر اس دنیا کو بھی جوڑا بتایا ہے اور اگلے جہان کو بھی جوڑا بتایا ہے۔اس دُنیا کے متعلق فرماتا ہے کہ ایک عسر کی دُنیا ہے اور ایک ٹیسر کی دُنیا ہے۔ایک ٹور کی دنیا ہے ایک ظلمت کی دُنیا ہے۔یعنی ایک زندگی اس دُنیا میں ایسی ہے جو تکلیف اور دُکھ کی زندگی ہے اور ایک زندگی راحت کی زندگی ہے۔اسی طرح ایک زندگی نور کی ہے اور ایک تاریکی کی۔یہ دونوں اس دنیا کی زندگی کے جوڑے ہیں چنانچہ فرماتا ہے۔فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا A یعنی یا درکھتنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی مقدر ہے۔ہاں یقینا اس تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی مقدر ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَتِ وَالنُّورَث یعنی سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ایک ظلماتی دنیا پیدا کی ہے اور ایک نوری دُنیا پیدا کی ہے۔خکلماتی دنیا ظاہری لحاظ سے رات ہوتی ہے کیونکہ رات کا کام بھی نرالا ہے اور دن کا کام بھی نرالا ہے۔اور نورانی دنیا دن ہوتا ہے اور رُوحانی طور پر ظلماتی دنیا کفر کی دنیا ہوتی ہے اور نورانی دنیا ایمان اور اسلام کی دنیا ہوتی ہے۔پھر اگلے جہان کے متعلق بھی ایک نار اور ایک جنت کی زندگی بتا تا ہے۔فرماتا ہے۔مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ أُولَئِكَ أَصْحَبُ الْجَنَّةِ : هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ " یعنی وہ لوگ جو برائیوں میں ملوث ہوں گے اور اُن کے گنا ہ اُن کا چاروں طرف سے احاطہ کر لیں گے وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہ اس میں رہتے چلے جائیں گے۔لیکن جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے مناسب حال اعمال کئے وہ جنت میں جائیں گے اور وہ اُس میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔غرض قرآن کریم نے خدائی مخلوق میں ہر جگہ جوڑا جوڑ استسلیم پھلوں میں بھی جوڑے ہیں کیا ہے بلکہ قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ صرف درختوں میں