سیر روحانی — Page 713
۷۱۳ ہی جوڑا نہیں بلکہ پھلوں میں بھی جوڑا ہوتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَ جَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَانْهَرَاء وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ یعنی خدا ہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا ہے اور اُس میں پہاڑ بنائے ہیں اور نہریں بنائی ہیں اور ہر قسم کے میوے لگائے ہیں مگر وہ تمام قسم کے میوے بھی جوڑا جوڑا ہیں۔گویا صرف کھجور کا درخت ہی جوڑا نہیں بلکہ کھجور کو جو پھل لگتا ہے وہ بھی جوڑا جوڑا ہے اور اس میں بھی نر اور مادہ ہوتا ہے۔آجکل کے سائنس دانوں کے مقابلہ میں یہ زراعت کا کتنا وسیع علم ہے جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے آج کے سائنس دان اس کے ہزارویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے۔پھر فرماتا ہے: يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ دیکھو ہم نے دن اور رات کا بھی جوڑا بنایا ہے رات دن پر اور دن رات پر سوار ہوتا چلا جاتا ہے۔زمین اور آسمان کا جوڑا یہ بھی یا د رکھنا چاہیئے اس آیت میں زمین کا تو ذکر کیا گیا ہے مگر آسمان کا نہیں۔یہ تو کہا ہے کہ ہم نے زمین کو پھیلایا ہے مگر آسمان جو زمین کا جوڑا ہے اُس کا ذکر چھوڑ دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ دو متقابل چیزوں میں سے ایک کا ذکر کر دیا جائے تو دوسری کو چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ ہر عقل اس کا آپ ہی قیاس کر لیتی ہے۔عرب کہتے ہیں کہ اگر دو متقابل چیزیں ہوں اور ایک چیز کا ذکر کر کے دوسری کو چھوڑ دیا جائے تو عقل انسانی اُسکو آپ ہی نکال لیتی ہے۔یہ قاعدہ میں اپنے پاس سے بیان نہیں کر رہا بلکہ لغت کے امام ثعالبی نے اپنی کتاب فقه اللغۃ میں اسے بیان کیا ہے۔ثعالبی وہ شخص ہیں جو ابنِ جتنی کے شاگرد تھے اور ابن جنّتی اِمَامُ اللغة سمجھے جاتے تھے۔وہ زبان کے بہت بڑے ماہر تھے۔اُن کی کتاب ایسی بے نظیر ہے کہ جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔اس کتاب میں انہوں نے اشتقاق وغیرہ پر بحث کی ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مدن الرحمن لکھی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ عربی زبان اُم الالسنہ ہے۔گو انہوں نے اس کا اپنی کتاب میں ایک ناقص نقشہ کھینچا ہے مگر بہر حال کچھ نہ کچھ نقشہ تو کھینچا ہے۔پس اس جگہ پر زمین و آسمان کو جوڑا بتایا گیا ہے اور پھلوں کو بھی جوڑا جوڑا بتایا گیا ہے۔پھلوں کے جوڑے میں صرف دنیا وی جوڑوں کی طرف اشارہ نہیں بلکہ اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ روحانی سلسلوں میں جو پھل پیدا ہوتے ہیں یعنی نبی کی روحانی اولا د چلتی ہے وہ بھی جوڑا جوڑا ہوتی ہے۔