سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 672 of 900

سیر روحانی — Page 672

۶۷۲ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ خدا جا گیر دینے والا تھا۔خدا تعالیٰ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا کہ موسیٰ اور داؤد کے وارث یہ مسلمان ہیں یا موسیٰ اور داؤد کے وارث یہودی اور عیسائی ہیں؟ تو کورٹ نے ڈگری دی کہ اب موسیٰ اور داؤد کے وارث مسلمان ہیں چنانچہ ڈگری سے ان کو ورثہ مل گیا۔جا گیر قائم ہے مگر جو اس کے وارث قرار دیئے گئے تھے ان کو مل گئی۔پھر آگے چل کر فرماتا ہے فَإِذَا جَاءَ یہود کی فلسطین میں دوبارہ واپسی کی پیشگوئی وَعْدُ الآخِرَةِ جِتْنَا بِكُمْ لَفِيفًا ه پھر اس کے بعد ایک اور وقت آئیگا کہ یہودیوں کو دنیا سے اکٹھا کر کے فلسطین میں لا کر بسا دیا جائیگا ، وہ اب وقت آیا ہے جبکہ یہودی اس جگہ پر آئے ہوئے ہیں۔لوگ ڈرتے ہیں اور مسلمان بھی اعتراض کرتے ہیں، چنانچہ کراچی اور لاہور میں مختلف جگہوں پر مجھ پر مسلمانوں نے اعتراض کیا کہ یہ تو وعدہ تھا کہ یہ سرزمین مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے گی۔میں نے کہا کہاں وعدہ تھا ؟ قرآن میں تو لکھا ہے کہ پھر یہودی بسائے جائیں گے۔کہنے لگے اچھا جی! یہ تو ہم نے کبھی نہیں سنا۔میں نے کہا تمہیں قرآن پڑھانے والا کوئی ہے ہی نہیں تم نے سنا کہاں سے ہے۔میری تفسیر پڑھو اُس میں لکھا ہوا موجود ہے۔تو یہ جو وعدہ تھا کہ پھر یہودی آجائیں گے قرآن میں لکھا ہوا موجود ہے۔سورۃ بنی اسرائیل میں یہ موجود ہے کہ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا۔جب آخری زمانہ کا وعدہ آئیگا تو پھر ہم تم کو اکٹھا کر کے اس جگہ پر لے آئیں گے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہود کے آنے کی وجہ سے اسلام منسوخ ہو بہائیوں کا لغو اعتراض گیا۔گویا اُن کے نزدیک اسلام کے منسوخ ہونے کی یہ علامت ہے کیونکہ عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ نے اس پر قبضہ کرنا تھا۔جب مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے تو معلوم ہو ا کہ مسلمان عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ نہیں رہے۔یہ اعتراض زیادہ تر بہائی قوم کرتی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہی پیشگوئی تو رات میں موجود ہے، یہی پیشگوئی قرآن میں موجود ہے اور اسی پیشگوئی کے ہوتے ہوئے اس جاگیر کو بابلیوں نے سو سال رکھا تو اس وقت یہودی مذہب بہائیوں کے نزدیک منسوخ نہیں ہوا۔ٹائیٹس کے زمانہ سے لیکرسو دوسو سال تک بلکہ تین سو سال تک فلسطین روم کے مشرکوں کے ماتحت رہا۔وہ عیسائیوں کے قبضہ میں نہیں تھا ، یہودیوں کے قبضہ میں نہیں تھا، مسجد میں سور کی قربانی کی جاتی تھی تب بھی وہ پیشگوئی غلط نہیں ہوئی لیکن یہودیوں کے آنے پر پانچ سال کے اندر اسلام منسوخ ہو گیا کیسی پاگل پن والی اور دشمنی کی بات ہے۔