سیر روحانی — Page 646
۶۴۶ طرح اوڑھتے ہیں کہ آواز دب کے باہر نہ نکلے ) تو وہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔اس محاورہ کی وجہ سے مفسرین کو غلطی لگی ہے اور انہوں نے اس مفتروں کی ایک غلط فہمی آیت کے ماتحت بعض ایسی روایتیں درج کر دی ہیں جنہیں پڑھ کر ہنسی آ جاتی ہے۔بیشک منافق بڑا گندہ ہوتا ہے اور منافق بے وقوف بھی ہوتا ہے لیکن وہ حرکت جو مفسرین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ تو بہت ہی چھوٹے بچوں والی ہے۔کہتے ہیں منافق لوگ اللہ تعالیٰ سے چُھپانے کے لئے لحاف اوڑھ کر اس کے اندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف باتیں کیا کرتے تھے۔حالانکہ اگر اس کے یہ معنے کئے جائیں تو یہ بچوں کا کھیل بن جاتا ہے۔درحقیقت یہ محاورہ ہے اور کپڑے اوڑھتے ہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی تدبیریں کرتے ہیں کہ کسی طرح ان کے دل کی بے ایمانی لوگوں پر ظاہر نہ ہو جائے۔مجرم اپنے اعمال بُھول جائیں گے مگر بہر حال فرماتا ہے کہ نہیں کسی ڈائری نویس کی ضرورت نہیں ، کسی ریکارڈ کی ضرورت نہیں ہم تو خدا تعالیٰ کے علم میں سب کچھ ہوگا آپ سب کچھ جانتے ہیں۔چنانچہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس دلیل کو بھی لے گا۔فرماتا ہے يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا اَحْضَهُ اللَّهُ وَ نَسُوهُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ جب قیامت کے دن ان سب کو اکٹھا کیا جائے گا تو اللہ تعالٰی علاوہ ان ڈائریوں کے اور علاوہ اس ریکارڈ کے يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا فرمائے گا ہمیں آپ بھی پتہ تھا ، لو اب سُن لو ہم تمہیں سناتے ہیں۔چنانچہ وہ اُن کے سارے اعمالنا مے انہیں سنانے شروع کر دیگا۔اَحْصهُ اللهُ وَ نَسُوهُ اور جب وہ بیان کرے گا تو پتہ لگے گا کہ اُن کے اعمال خدا کو تو یاد تھے مگر وہ آپ بُھول گئے تھے کہ ہمارے یہ یہ اعمال ہیں۔گویا سب کچھ کرنے کے باوجود اُن کو پتہ نہیں تھا کہ ہم نے کیا کام کئے ہیں۔جب خدا نے سُنائے تو انہیں پتہ لگ گیا کہ تفصیل کیا ہے۔وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ اور اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کا نگران اور گواہ ہے۔فرشتوں کی اس کو ضرورت نہیں صرف لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لئے اُن کی ضرورت ہے۔اس جگہ اس سوال کا جواب بھی آ گیا ملائکہ کی ضرورت کے متعلق ایک لطیف نکتہ جو بعض لوگ کیا کرتے ہیں کہ جب