سیر روحانی — Page 639
۶۳۹ جو ڈائری نویس ہیں ان میں یہ بات بالکل نہیں پائی جاتی۔عالم روحانی میں مجرم کیلئے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی یہ درست ہے کہ جس وقت اس کے سامنے گواہ پیش کئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ انہوں نے تمہارا واقعہ لکھا ہے تو مُجرم لازماًیہ کہے گا کہ صاحب ! یہ غلط ہے۔جیسے اس دنیا میں مجسٹریٹ کے سامنے جب پولیس ایک کیس پیش کرتی ہے تو مجرم کہتا ہے حضور یہ بالکل غلط ہے، پولیس والے میرے دشمن ہیں اور انہوں نے خواہ مخواہ مجھ پر کیس چلا دیا ہے میں نے تو کوئی فعل کیا ہی نہیں۔اس کے نتیجہ میں حج بھی شبہ میں پڑ جاتا ہے اور وہ بھی یہ دیکھتا ہے کہ آیا پولیس بچی ہے یا یہ سچا ہے اور ادھر پبلک بھی شبہ میں پڑ جاتی ہے بلکہ پبلک کو عام ہمدردی لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، پولیس کے ساتھ نہیں ہوتی۔چنانچہ پبلک بھی اور اخبار والے بھی طنز شروع کر دیتے ہیں کہ یونہی آدمی کو دھر گھسیٹا ہے ، نہ اس نے مجرم کیا نہ کچھ کیا یونہی اس کو دھر لیا گیا ہے۔فرماتا ہے یہ امکان ہمارے ڈائری نویسوں کے خلاف بھی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے يَوْمَ نَحْشُرُ هُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ اشْرَكُوا اَيْنَ شُرَكَاؤُ كُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا وَ اللَّهِ رَبَّنَا مَا كُنَّا مُشْرِکین جب قیامت کے دن ہمارے سامنے وہ لوگ پیش ہونگے تو ہم مشرکوں سے کہیں گے کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم میرا شریک قرار دیا کرتے تھے۔تو فرماتا ہے وہ ایک ہی جواب دیں گے، جیسے ہمیشہ مجرم جواب دیتے آئے ہیں کہ وَ اللهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ اے ہمارے رب! تیرے سامنے ہم نے جھوٹ بولنا ہے؟ تو ہمارا خدا ہم تیرے بندے، تیرے سامنے تو ہم جھوٹ نہیں بول سکتے۔مجرم ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے ہیں کہ حضور کے سامنے جھوٹ بولنا ہے؟ آپ کے سامنے تو ہم نے جھوٹ نہیں بولنا۔سچی بات یہ ہے کہ ہم کبھی شرک کے قریب بھی نہیں گئے ہم نے کبھی شرک کیا ہی نہیں، یہ سب جھوٹ ہے اور یہ ڈائریاں یونہی جھوٹی لکھتے رہے ہیں۔اب یہ سمجھ لو کہ جس طرح یہاں پولیس کچی ڈائری دے اور مجسٹریٹ کے سامنے یہ سوال آجائے کہ پولیس جھوٹی ہے تو وہ بیچارے گھبرا جاتے ہیں کہ اب ہم کس طرح ثابت کریں۔اسی طرح وہ ڈائری نویس بھی لازماً گھبرائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اتنی محنت کر کے بچے بچے واقعات لکھے تھے اب انہوں نے اللہ میاں کے سامنے آکر کہہ دیا کہ صاحب! ہم نے آپ کے سامنے تو جھوٹ نہیں بولنا واقعہ یہ ہے کہ ہم نے کوئی شرک نہیں کیا اور ملزم یہ سمجھ لے گا کہ بس میرے اس حربہ کے