سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 900

سیر روحانی — Page 625

۶۲۵ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (۸) تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۵۴ء بر موقع جلسه سالانه منعقده ربوه) عالم روحانی کے دفاتر تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا : - ۱۹۳۸ء کے سفر حیدر آباد اور دہلی میں میں نے جو تاریخی مقامات دیکھے اُن میں مسلمان بادشاہوں کے دفاتر بھی شامل تھے مجھے بعض عمارتیں دکھائی گئیں اور کہا گیا کہ یہ قلعہ کے شاہی دفاتر ہیں۔ان دفاتر پر ایک سیکرٹری اور دنیوی دفاتر کا نظام اور اُس کی غرض وغایت وزیر مقرر ہوتا تھا۔باہر کے تمام صو بیدار اور ان کے ماتحت افسر اور قاضی وغیرہ بادشاہ کے پاس اپنی رپورٹیں بھجواتے تھے اور اس دفتر میں اُن کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔چنانچہ بادشاہ کو جب ضرورت پیش آتی تھی وہ ریکارڈ اُس کے سامنے پیش کیا جاتا تھا اور وہ اُن سے فائدہ اُٹھا کر اپنے احکام جاری کرتا تھا۔مثلاً جس قدر بڑے بڑے چور، ڈاکو اور فریبی تھے اُن کے متعلق ڈائریاں جاتی تھیں کہ فلاں شخص مشہور چور ہے، فلاں شخص مشہور ڈاکو ہے، فلاں شخص مشہور مفسد ہے، فلاں شخص بڑا خائن ہے، فلاں شخص بڑا جعلساز ہے، اور جب اُن کو پکڑا جاتا تھا تو اُن ڈائریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بادشاہ اُن کے متعلق کوئی فیصلہ کرتا تھا اور وہ ڈائریاں وہاں ریکارڈ کے طور پر رکھی جاتی تھیں۔اسی طرح جب وہاں سے نیچے احکام جاری ہوتے تھے کہ مثلا فلاں ڈاکو کی مزید نگرانی کرو اور اُس کے متعلق مزید ثبوت بہم پہنچاؤ یا اُس کو فلاں سزا دے دو یا کسی کے اچھے کام کی ڈائری آئی تو حکم گیا کہ اس کی حوصلہ افزائی کرو یا اس کو فلاں انعام دے دو تو یہ ریکارڈ بھی وہاں رکھے جاتے