سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 900

سیر روحانی — Page 626

۶۲۶ تھے اور ان میں یہ درج کیا جا تا تھا کہ فلاں فلاں کے نام یہ حکم نافذ کیا گیا ہے۔غرض ان دفاتر میں لوگوں رعایا کی سزاؤں اور ترقیات کے احکام کا اندراج کے اعمالنامے ہوتے تھے ان اعمالناموں پر بادشاہ جو کارروائی کرتا تھا وہ ریکارڈ ہوتی تھی، جو سزائیں دیتا تھا اُن کے احکام درج ہوتے تھے۔اسی طرح جو سزاؤں کی تجویز نچلے افسر کرتے تھے وہ درج ہوتی تھی اور جو انعامات کی سفارشیں نیچے سے آتی تھیں وہ ریکارڈ ہوتی تھیں۔پھر اُن سفارشات کے مطابق بادشاہ کے جو احکام جاری ہوتے تھے کہ مثلاً اس کو میں ایکٹر زمین دے دو، اس کو ایک گاؤں دے دو، اس کو دس گاؤں دے دو، یہ سارے احکام اس میں درج ہوتے تھے۔اسی طرح جو ترقیات کے احکام جاتے تھے یا خطابوں کے احکام جاتے تھے کہ اس کو فلاں خطاب دیا جاتا ہے ، اُس کو فلاں خطاب دیا جاتا ہے وہ ان دفاتر میں لکھے جاتے تھے۔غرض مجرموں کی ڈائریاں اور مخلصوں کے کارنامے یہ سارے کے سارے وہاں جمع ہوتے تھے اور جب کسی شخص کو سزا دینے کا سوال پیدا ہوتا تھا تو اس کے پچھلے اعمالنامے دیکھ لئے جاتے تھے کہ یہ کس سزا کا مستحق ہے۔بعض دفعہ فعل ایک ہی ہوتا ہے لیکن ایک شخص اس کام کا عادی ہوتا ہے اور دوسرے شخص سے اتفاقی طور پر وہ فعل سرزد ہو جاتا ہے جس سے اتفاقی حادثہ ہو جاتا ہے اس کو تو تھوڑی سزا دی جاتی ہے اور جو عادی مجرم ہوتا ہے اُس کو اس کے پچھلے جرائم کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سزا دی جاتی ہے۔مگر میں نے دیکھا دنیوی حکومتوں میں مجرموں کے لئے گریز کی متعدد راہیں کہ یہ دفاتر جو بادشاہوں نے بنائے تھے اِن میں گریز کی بھی بڑی بڑی راہیں تھیں۔اوّل تو یہ لوگ چوری چھپے کام کرتے تھے مثلاً ایک شخص قتل کرتا تھا یا چوری کرتا تھا اور ظاہر میں وہ بڑا شریف آدمی نظر آتا تھا۔اب جو ڈائری نولیس تھا اُس کو اِس کے حالات معلوم ہونے بڑے مشکل تھے پس اخفاء سے کام لینے کی وجہ سے وہ اپنے جرائم پر پردہ ڈال دیتا تھا۔اسی طرح میں نے دیکھا کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ بات تو اُن کی ظاہر ہو گئی لیکن مبالغہ کے ساتھ ظاہر ہوئی۔انہوں نے مکھی ماری اور بن گیا کہ ہاتھی مارا ہے اور پھر وہی رپورٹ او پر چلی گئی کہ فلاں شخص سے یہ یہ جرائم ہوئے ہیں اور بعض لوگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ رشوتیں دے کر اچھے اچھے کام لکھوا دیتے تھے کہ ہم نے