سیر روحانی — Page 550
کا سوال ہی کیا ہے۔پھر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ میاں کیا بیوقوفی کی باتیں کرتے ہو تمہارے ہو نگے دو دو آدمی ہمارا تو ایک ہی آدمی ہے جسے اُس نے پناہ دی اُسے ہم نے بھی پناہ دی اور جس سے وہ لڑ پڑے اُس سے ہم بھی لڑ پڑے ہمارا بیچ میں کیا دخل ہے۔پھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔پھر وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور جا کر کہا مرد تو سمجھتے نہیں یہ لڑا کے ہوتے ہیں ان کو شکار کا شوق ہوتا ہے، عورتیں بڑی رقیق القلب ہوتی ہیں میں تمہارے پاس اِس لئے آیا ہوں کہ قوم کے خون ہو جائیں گے، فساد ہو جائے گا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔تم جانتی ہو۔میں سردا ر ہوں جب میرے دستخط نہیں ہوئے تو دوسرے اس کو کیسے مان لیں گے؟ میں تکلیف اُٹھا کے آیا ہوں کہ کسی طرح معاہدہ ہو جائے اور میرے دستخط ہو جائیں۔تم ذرا اپنے ابا سے چل کے کہو کہ میں نے انہیں پناہ دے دی ہے۔تمہارے ساتھ ان کو پیار ہے بات ہو جائے گی حضرت فاطمہ کہنے لگیں ہمارے ہاں عورتیں ایسے معاملات میں دخل نہیں دیا کرتیں میرا اس معاملہ سے کیا تعلق ہے مردوں سے جا کر کہو۔کہنے لگا اچھا ! عورتیں دخل نہیں دیتیں تو حسن اور حسین کو بھیجد و انکو سکھا دو کہ وہ جا کر یہ بات کہہ دیں کہ نانا ! ہم نے پناہ دے دی ہے۔حضرت فاطمہ نے کہا ہمارے ہاں دنیا کے تمام کاموں میں بلوغت کی شرط ہوتی ہے۔یہ بچے ہیں ان کو کیا پتہ کہ پناہ کیا ہوتی ہے۔پھر وہ مہاجرین کے پاس گیا انصار کے پاس گیا اور اس میں اس کے دو تین دن لگ گئے آخر اُسے گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہوگئی کہ ہوگا کیا ؟ ابوسفیان کا مسجد نبوی میں اعلان آخر وہ سوچ کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دوبارہ گیا اور حضرت علی کو جا کر کہنے لگا میں ساری جگہوں پر گیا ہوں مگر میری کوئی نہیں سنتا۔محمد رسول اللہ سے بات کی وہ کوئی جواب نہیں دیتے۔اب تم مجھے بتاؤ کوئی ترکیب نکل سکتی ہے یا نہیں ؟ قوم کا درد تمہارے اندر بھی ہونا چاہئے۔حضرت علی کہنے لگے یہی تجویز میری سمجھ میں آتی ہے کہ تم مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ ނ میں چونکہ اپنی قوم کا سردار ہوں اور میں نے دستخط نہیں کئے ہوئے اسلئے میں اپنی طرف۔اُسے اس رنگ میں پختہ کرنے آیا ہوں کہ آج نئے سرے سے معاہدہ کیا جاتا ہے اور اس کی اتنی مدت بھی بڑھاتا ہوں۔اُس نے کہا۔اِس کا کوئی فائدہ ہوگا ؟ حضرت علیؓ نے کہا۔بظاہر تو