سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 900

سیر روحانی — Page 549

۵۴۹ ابوسفیان کی بہانہ سازی جب وہ مدینہ پہنچا تو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا آپ جانتے ہیں میں ملکہ کا سردار ہوں۔فرمایا ٹھیک ہے۔اُس نے کہا آپ کو معلوم ہے جب صلح حدیبیہ ہوئی تھی میں مکہ میں موجود نہیں تھا اُسوقت معاہدہ ہو گیا۔آپ میری پناہ دیئے بغیر کسی کو کیوں پناہ دے سکتے ہیں۔میں معاہدہ کروں تو معاہدہ مکہ کی طرف سے ہو سکتا ہے میں نہ کروں تو کیسے ہو سکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی بات سُن کر خاموش رہے۔پھر اُس نے کہا میری تجویز یہ ہے کہ معاہدہ نئے سرے سے کیا جائے اور میں اُس پر دستخط کروں اور دوسرے دس سال تھوڑے ہیں قوم لڑتے لڑتے تھک گئی ہے میرا خیال ہے اس مدت کو پندرہ یا بیس سال کر دیا جائے۔اس طرح اُس نے بہا نہ بنایا کہ گویا ایک معقول وجہ بھی موجود ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوسفیان کیا کوئی معاہدہ توڑ بیٹھا ہے؟ وہ کہنے لگا مَعَاذَ اللَّهِ مَعَاذَ الله یہ کس طرح ہو سکتا ہے معاہدہ ہم نے خدا سے کیا ہے اُسے کوئی توڑ سکتا ہے۔ہم اپنے معاہدہ پر قائم ہیں ہم اُسے نہیں توڑ سکتے۔آپ نے فرمایا اگر تم معاہدہ توڑنے والے نہیں تو ہم بھی توڑنے والے نہیں کسی نئے معاہدہ کی کیا ضرورت ہے۔اب گھبرا گیا کیونکہ بات تو بنی نہیں تھی۔وہ کہنے لگا زیادہ مناسب یہی ہے کہ میں بڑا آدمی ہوں معاہدہ پر میرے دستخط نہیں اگر میرے دستخط ہو جائیں تو معاہدہ محفوظ ہو جائیگا اس سے زیادہ کوئی بات نہیں۔آپ نے فرمایا کوئی ضرورت نہیں۔اب ابو سفیان کو فکر پڑی تو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور جا کر کہنے لگا ابو بکر ! تم جانتے ہو میری کتنی بڑی پوزیشن ہے میرے دستخط معاہدہ پر نہ ہوں تو مکہ والوں پر وہ کیسے حجت ہو سکتا ہے میرے دستخط ہونے چاہئیں اور میں پھر کہتا ہوں کہ مدت بھی بڑھا دی جائے۔تم محمد رسول اللہ سے کہو وہ تمہاری بات بڑی مانتے ہیں تم اُن سے کہو کہ معاہدہ پھر سے ہو جائے اور اُس پر میرے دستخط بھی ہو جائیں۔آپ نے فرمایا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا؟ اُس نے کہا۔ہاں میں نے کہا تو تھا مگر انہوں نے فرمایا کہ جب معاہدہ ہو چکا ہے تو پھر نئے معاہدہ کی کیا ضرورت ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔ابوسفیان ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں میری پنا ہ بھی شامل ہے اس لئے کسی نئی پناہ کی ضرورت نہیں۔اس کے بعد وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اُن سے بھی یہی کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ وہ ہمارے ساتھ نیا معاہدہ کریں۔حضرت عمرؓ نے کہا۔میں تو تمہارا سر پھوڑنے کے لئے بیٹھا ہوں کسی نئے معاہدہ