سیر روحانی — Page 548
۵۴۸ ,, جس طرح میں اپنی جان اور اپنے بیوی بچوں کی جانوں کی حفاظت کرتا ہوں۔اسی طرح تمہاری جانوں اور تمہارے بیوی بچوں کی جانوں کی بھی حفاظت کرونگا۔‘۱۶ پھر آپ نے انہیں تسلی دی اور کہا کہ مکہ والوں کو پتہ لگے گا اور وہ تمہاری تلاش میں ہونگے تم جاؤ لیکن چالیس آدمیوں کا قافلہ چونکہ آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے اس لئے تم واپس جاتے وقت دو دو تین آدمی مل کر جاؤ۔قافلہ کی صورت میں اکٹھے نہ جاؤ تا پتہ نہ لگے کہ تم میرے پاس پہنچے ہو۔چنانچہ انہوں نے قافلہ کو دو دو، تین تین، چار چار کی پارٹیوں میں تقسیم کر دیا اور واپس چلے گئے۔کا ادھر مکہ والوں کو جب فکر ہوئی کہ ابوسفیان کا معاہدہ کی تجدید کیلئے مدینہ پہنچنا ہم نے معاہدہ توڑ دیا ہے اور اب مسلمانوں کے لئے راستہ کھل گیا ہے ہم الزام نہیں لگا سکتے اور وہ حملہ کر سکتے ہیں اور ادھر دیکھا کہ مکہ میں جو معاہدہ کیا جائے لوگ اُس کی بڑی عزت کرتے تھے حرم میں کئے ہوئے معاہدہ کی وجہ سے سارے لوگ کہیں گے کہ یہ بڑے بے ایمان ہیں اور وہ ہم سے نفرت کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے مقدس مقام کی ہتک کی ہے ادھر انہوں نے معاہدہ کیا اور اُدھر اُسے توڑ ڈالا۔پس جب انہوں نے دیکھا کہ ہم سے غلطی بھی ہوئی ہے اور ارد گرد کے قبائل میں بھی ہماری بدنامی ہوتی ہے اور اب اس کے نتیجہ میں بالکل ممکن ہے کہ مسلمان ہم پر حملہ کر دیں تو انہوں نے چاہا کہ کسی طرح اس لڑائی کو ٹلا دیا جائے۔جس وقت حدیبیہ کی صلح ہوئی ہے اُس وقت ابوسفیان جو اُن کا لیڈر تھا مکہ میں موجود نہیں تھا وہ باہر تھا مگر اس واقعہ کے وقت ابوسفیان موجو دتھا۔مکہ کے رؤساء آخر پریشان ہو کر ابوسفیان کے پاس آئے اور اُس سے کہا کہ اِس اِس طرح واقعہ ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا واقعہ کیا ہے؟ میں نے تو سُنا ہے کہ تم خود وہاں گئے تھے اور خزاعہ پر تم نے حملہ کیا۔وہ کہنے لگے جو ہو گیا سو ہو گیا تم لیڈر ہو تمہارا کام ہے کہ اس کو سنبھالو۔تم مدینہ جاؤ اور وہاں جا کر دوبارہ معاہدہ کرو اور یہ بہانہ بنالو کہ دس سال تھوڑی مدت ہے ہم پندرہ سال تک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اُن کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ ہم کیوں کر رہے ہیں۔نیا معاہدہ ہو جائے گا اور ہم کہیں گے کہ اب پچھلی غلطی پر کوئی لڑائی نہیں ہو سکتی۔ابوسفیان نے کہا بہت اچھا چنا نچہ وہ چل پڑا۔