سیر روحانی — Page 35
۳۵ عربی زبان کا ایک محاورہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جو قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے کہ خُلِقَ مِنْهُ اِس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ فلاں شخص فلاں مادہ سے بنا ہے بلکہ اس سے یہ مراد ہوتا ہے کہ یہ امر اس کی طبیعت میں داخل ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ محاورہ سورہ انبیاء میں استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَأُوْرِيْكُمُ ايَتِى فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ که انسان جلدی سے پیدا کیا گیا۔اب جلدی کوئی مادہ نہیں ہے جسے گوٹ کوٹ کر اللہ تعالیٰ نے انسان بنا دیا ہو، بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جو استعمال ہوا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہت جلد باز ہے اور اس کی فطرت میں جلد بازی کا مادہ رکھا گیا ہے۔جب پیشگوئیاں ہوتی ہیں تو کئی لوگ اس گھبراہٹ میں کہ نہ معلوم یہ پیشگوئیاں پوری ہوں یا نہ ہوں ، مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں اور کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے یہ جھوٹا ہے۔اللہ تعالیٰ اسی امر کا اس جگہ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے سَأُورِيكُمُ ايَتِى فَلَا تَسْتَعْجِلُون تم ہمارے انبیاء کی پیشگوئیاں سنتے ہی اُسے جھوٹا جھوٹا کیوں کہنے لگ جاتے ہو؟ تم جلدی مت کرو ہماری پیشگوئیاں بہر حال پوری ہو کر رہیں گی۔اسی طرح قرآن کریم میں ایک اور جگہ بھی یہ محاورہ استعمال کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِقُوَّةٍ ضُعْفَ وَّ شَيْبَةً ٢٩ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔اب بتاؤ کہ کیا ضعف کوئی مادہ ہے؟ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں کمزوری ہوتی ہے چنانچہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے فطری طور پر سخت کمزور ہوتا ہے۔پھر ہم بچے کو جوان بنا کر اس کے قومی کو مضبوط کرتے ہیں ، پھر اور بڑھا کر اُسے بڑھا کر دیتے ہیں پس یہاں خَلَقَكُمُ مِنْ ضُعْفٍ سے مراد بچے کے قوی کی کمزوری اور اس کی دماغی طاقتوں کا ضعف ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبیعت میں کمزوری ہوتی ہے نہ یہ کہ کمزوری کوئی مادہ ہے جس سے وہ پیدا ہوتا ہے۔ان دونوں آیتوں سے خُلِقَ مِنْہ کے معنے بالکل واضح ہو جاتے ہیں اور انہی معنوں میں ابلیس اللہ تعالیٰ کو خطاب کر کے کہتا ہے کہ اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِى مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينِ " اے اللہ ! تو نے میری طبیعت میں تو آگ کا مادہ رکھا ہے اور اُس میں طین کا۔یعنی تو نے میری طبیعت تو ناری بنائی ہے اور آدم کی طینی، یہ تو غلام فطرت ہے اور یہ تو ممکن ہے دوسرے کی بات مان لے لیکن میں جو ناری طبیعت رکھتا ہوں دوسرے کی غلامی کس طرح کر سکتا ہوں۔اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ کا مطلب یہ ہے میں تو خر