سیر روحانی — Page 540
۵۴۰ چنانچہ انہوں نے بیعت کی اور احمدیت میں داخل ہو گئے۔مسلمانوں کی کمزوری پر منافقین کی طعنہ زنی غرض جب یہ باتیں پوری ہو ئیں تو منافقوں کیلئے یہ بڑی تباہ کن چیز تھی۔انہوں نے خیال کیا اب تو مارے گئے۔ادھر سے یہودی چلے آرہے ہیں اُدھر سے عرب قبائل چلے آ رہے ہیں ، ادھر مکہ کے لشکر چلے آ رہے ہیں۔غرض دس بارہ ہزار کا لشکر آرہا ہے اور مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ اُن کے مقابلہ میں اتنا سپاہی تو کجا ، ان کے پاس اس سے نصف بھی سپاہی نہیں۔وہ مقابلہ کہاں کریں گے اور یہ حالت پہنچ گئی کہ وَاِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَاهُلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوات منافق جو ڈر کے مارے مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اُن کو بھی اتنی دلیری پیدا ہو گئی کہ انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ارے میاں ! اب بھی یہ بات کی تمہاری سمجھ میں نہیں آئی اب تو سارا عرب اکٹھا ہو کر تمہارے خلاف جمع ہو گیا ہے اسلئے اب چھوڑ ومحمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو یہ آپ بھکتا پھرے گا اور جاؤ اپنے گھروں میں اب اس لڑائی میں مقابلہ کا کوئی فائدہ نہیں۔مخالف لشکروں کو دیکھ کر صحابہ کے ایمان اور بھی بڑھ گئے لیکن مسلمانوں نے اُسوقت وہی دیکھا جو خان فقیر محمد صاحب چارسدہ والوں نے دیکھا تھا کہ خدا کی یہ بات پوری ہوگئی ہے اور وہ بات بھی پوری ہو گی۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَلَمَّا رَأَ الْمُؤْمِنُونَ الْاَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ | وَمَا زَادَهُمُ إِلَّا إِيْمَانًا وَّتَسْلِيما یعنی جب مؤمنوں نے دیکھا کہ اُدھر سے شمالی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں ادھر سے جنوبی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں ، اُدھر سے مشرقی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں ادھر سے مغربی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں، اُدھر سے مکہ کا لشکر چلا آرہا ہے ادھر سے یہودی قبائل ارد گرد سے جمع ہو کر چلے آرہے ہیں ، ادھر سے اندر کے یہودی مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں اور ادھر منافقوں کی بات بھی سنی کہ اب تو تمہارا کچھ نہیں بن سکتا چھوڑ و اس دین کو ، تو مسلمانوں نے کہا تم تو کہتے ہو ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیں۔ارے مکہ میں