سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 900

سیر روحانی — Page 33

۳۳ لوگوں کے لئے بار یک مسائل کا سمجھنا بالکل ناممکن تھا وہ اگر سمجھ سکتے تھے تو صرف موٹی موٹی باتیں سمجھ سکتے تھے۔پس کافر و مؤمن کی جگہ جن و انس دو نام ان کے رکھے گئے تا کہ اُس وقت کے تمدن اور بنائے اختلاف کو بھی ظاہر کر دیا جائے اور اس وقت کے لوگوں کی سمجھ میں بھی یہ بات آ جائے۔آج چونکہ انسانی دماغ بہت ترقی کر چکا ہے اس لئے جب کسی کو مؤمن یا کافر کہا جاتا ہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ ان الفاظ کا کیا مفہوم ہے مگر اُس زمانہ میں اگر انہیں کا فر کہا جاتا اور بتایا جا تا کہ تم اس لئے کا فر ہو کہ تم آدم کی بات کو نہیں مانتے تو وہ اس بات کو سمجھ ہی نہ سکتے کہ آدم کی بات کو نہ ماننے کی وجہ سے ہم کا فر کس طرح ہو گئے۔پس اُس وقت ان لوگوں کا نام جنہوں نے آدم کو مانا اور تمدن کی زندگی کو قبول کر لیا انس رکھا گیا اور اُن لوگوں کا نام جنہوں نے آدم کی بات کو نہ مانا اور غاروں میں ہی چھپے رہنے کا فیصلہ کر لیا جن رکھا گیا اور یہ ایسی بات تھی جسے وہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ واقع میں ان میں سے کچھ لوگ زمین پر رہتے ہیں اور کچھ زمین کے اندر غاروں میں رہتے ہیں۔پس جب انہیں جن کہا جاتا تو وہ کہتے ٹھیک ہے ہم واقع میں غاروں سے نہیں نکلنا چاہتے اور جب دوسروں کو جو سطح زمین پر رہتے ہیں انس کہا جاتا تو یہ بات بھی ان کی سمجھ میں آجاتی اور وہ کہتے کہ واقع میں وہ سطح زمین پر رہتے ہیں اور اس وجہ سے جن نہیں کہلا سکتے۔پس جس طرح موجودہ زمانہ میں کافر اور مؤمن دو ناموں سے انسانوں کو یاد کیا جاتا ہے اسی طرح اُس زمانہ میں جن و انس دو ناموں سے انسانوں کو یاد کیا جاتا تھا کیونکہ اُس زمانہ میں اختلاف کی بنیاد تمدن تھی۔پس مؤمن و کافر کی جگہ انس وجن دو نام ان کے رکھے گئے تا کہ اُس وقت کے تمدن اور بنائے اختلاف کو بھی ظاہر کر دیا جائے اور بتایا جائے کہ انس وہ تھے جنہوں نے الہی حکم کے مطابق با ہمی اُنس اختیار کر کے متمدن زندگی کی بنیاد رکھی اور جن وہ تھے جنہوں نے اس سے انکار کر کے اطاعت سے باہر رہنے اور تمدنی زندگی اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔پس وہ جنہوں نے تمدنی زندگی اختیار کر لی اور سطح زمین پر رہنے لگ گئے وہ انس کہلائے اور جنہوں نے سطح زمین پر رہنے اور تمدنی زندگی اختیار کرنے سے انکار کر دیا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ غاروں میں ہی رہیں گے وہ جن کہلائے۔آج یورپ کے ماہرینِ آثار قدیمہ اس بات سے پھولے نہیں سماتے کہ انہوں نے انیسویں صدی میں ہزار تحقیق و تجس کے بعد یہ راز دریافت کر لیا ہے کہ ابتداء میں انسان غاروں میں رہا کرتے تھے مگر ہمارے قرآن نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ایسے لوگوں کا نام جن رکھ کر بتا