سیر روحانی — Page 484
۴۸۴ رقابت اور عناد سے پاک دربار پھر دُنیوی بادشاہوں کے دیوان خاص میں باریاب ہونے والوں کو خطابات ملتے ہیں تو باہم رقابت اور دشمنی اور لڑائی شروع ہو جاتی ہے لیکن اس دیوان خاص میں شریک ہونے والوں کے دلوں میں کوئی رقابت کوئی دشمنی اور کوئی لڑائی نہیں ہوتی بلکہ ان کے دل ایک دوسرے کی محبت اور پیار کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں فرماتا ہے۔وَالَّذِيْنِ جَآءُ وُا مِنْ بَعْدِهُمُ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلُ فِي قُلُو بِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُ وُفٌ رَّحِيمٌ ۸۵ یعنی بعد میں آنے والے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ئیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! تو ہمیں بھی بخش اور ہمارے اُن بھائیوں کو بھی بخش جو ہم سے ایمان لانے میں سبقت اختیار کر چکے ہیں اور ہمارے دلوں کو اُن کے متعلق ہر قسم کے کینہ اور بغض سے صاف کر دے۔اے ہمارے رب! تو بڑا مہربان اور بڑا رحم کر نیوالا ہے۔تعلقات کی خرابی کی تین وجوہ دنیا میں تعلقات کی تمام تر خرابی حسد، رقابت اور آئندہ کے خطرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔حسد پہلوں سے ہوتا ہے رقابت ہمعصروں سے ہوئی ہے اور خطرہ بعد میں آنے والوں سے ہوتا ہے لِلَّذِينَ آمَنُوا کہہ کر ایک سچا مؤمن اِن تینوں نقائص سے اپنا دل صاف رکھنے کی خواہش کرتا ہے گویا اس کا دل ایسا پاکیزہ ہوتا ہے کہ اس میں نہ پہلوں کا حسد ہوتا ہے نہ ہمعصروں کی رقابت ہوتی ہے اور نہ بعد میں آنے والوں کے متعلق کوئی بدظنی ہوتی ہے۔وه ہر قسم کے بغض اور کینہ سے مبرا وجود اسی طرح اللہ تعالی اس دیوان خاص“ والے درباریوں کی نسبت فرما تا ہے کہ اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَتْتٍ وَعُيُون اُدْخُلُوهَا بِسَلم امِنِيْنَ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلّ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَبِلِينَ ٥٦٠ یعنی متقی لوگ باغات اور چشموں والے مقامات میں ہو نگے اور انہیں کہا جائیگا کہ تم سلامتی کے ساتھ ان میں داخل ہو جاؤ اور ان کے سینوں کو ہر قسم کے بغض اور کینہ اور حسد سے پاک کر دیا جائیگا اور وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں رہیں گے۔