سیر روحانی — Page 459
۴۵۹ وَلَا تَمُنُنُ تَسْتَكْثِرُ کی تشریح آگے فرماتا ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ غیر احمدی مولوی اس کے یہ معنے کرتا ہے کہ لوگوں پر اس نیت سے احسان نہ کر کہ تجھے اس کے بدلہ میں کچھ زیادہ ملے اسی کا ترجمہ میں نے پہلے یہ کر دیا تھا کہ سودخوری نہ کر۔لوگوں کو اس لئے پیسے نہ دیا کر کہ اس کے بدلے میں تجھے زیادہ ملے لیکن دوسری شکل ہمارے ملک میں ایک اور بھی ہوتی ہے جسے ڈھویا دینا کہتے ہیں اور اُردو میں ڈالی دینا کہتے ہیں بعض باغبان گلدستے بنالیتے ہیں کچھ پھول لے لئے ، کچھ تریں لے لیں، کچھ تر کاری لے لی اور کسی امیر آدمی کے گھر لے گئے کہ میں ڈالی لایا ہوں آگے اس کی طرف سے جو بدلہ ملتا تھا وہ قیمت میں نہیں ہوتا تھا۔مثلاً یہ نہیں ہوتا تھا کہ دو آنے کی چیز ہوئی تو اس نے دو آنے ہی دے دیئے بلکہ کبھی دس کبھی میں کبھی پچاس اور کبھی سو روپے دے دیتا تھا۔عربوں میں اس کا بڑا رواج تھا خصوصاً بنو امیہ کے بنو امیہ کے ایک بادشاہ کا لطیفہ خلفاء کے پاس بڑے بڑے تحفے آتے تھے۔لطیفہ مشہور ہے کہ بنو امیہ کا ایک بادشاہ ایک دفعہ شکار کے لئے گیا اور جنگل میں اکیلا رہ گیا اُسے ایک شخص ملا جو گدھا ہانک رہا تھا اور اُس پر اُس نے کھیرے رکھے ہوئے تھے۔بادشاہ نے کہا میاں! کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا دمشق جا رہا ہوں کہنے لگا کہ کس لئے اس نے اسی بادشاہ کا نام لیا کہ اس کے حضور میں پیش کرنے کے لئے یہ لے چلا ہوں کہنے لگا کیوں؟ اس نے کہا اس لئے کہ وہ مجھے انعام دیگا۔اس نے کہا ان چیزوں کا بھلا کیا انعام ہو سکتا ہے یہ تو بہت معمولی چیزیں ہیں اچھا تم کیا امید رکھتے ہو؟ اس نے کہا میں تو امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے تین سو اشرفی انعام دیگا۔اُس نے کہا تین سو اشرفی ! یہ تو ایک اشرفی کی بھی چیز نہیں تمہیں تین سو اشرفی کون دیگا ؟ کہنے لگا تین سو نہ سہی اڑھائی سولے لونگا۔اُس نے کہا اڑھائی سو بھی بہت زیادہ ہے، کہنے لگا تو پھر دوسو سہی۔اس نے کہا دو سو بھی بہت زیادہ ہے۔کہنے لگا نہ مانے گا تو ڈیڑھ سو سہی اس نے ڈیڑھ سو کو زیادہ بتایا تو کہنے لگا سو سہی۔اُس نے کہا کون بے وقوف ہے جو تمہیں سو اشرفی دے دیگا۔وہ بیچا را مایوس ہو کر اسی طرح قیمت گراتا چلا گیا اور آخر کہنے لگا کہ میں دس اشرفی تو ضرور لوں گا۔اُس نے کہا یہ تو دس اشرفی کی بھی چیز نہیں۔کہنے لگا اگر اس نے دس سے بھی کم دیں تو میں گدھا اس کی ڈیوڑھی میں باندھ دونگا اور آپ چلا آؤنگا اُس نے کہا اچھا ! اس گفتگو کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر واپس آ گیا اور اُس نے سپاہیوں کو حکم دیدیا