سیر روحانی — Page 458
۴۵۸ بیان کے ساتھ اور وعظ اور نصیحت کے ساتھ نیک طبیعتیں رُک جائیں جس طرح جانور کے پیر کو گردن سے باندھتے ہیں تو وہ دوڑ نہیں سکتا اسی طرح شرک دوڑنے کے قابل نہ رہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلْتَكُنُ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۵۲ یعنی چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیکی اور تقویٰ اور اسلام کی طرف لوگوں کو بلائے اور انہیں نیک باتوں کا حکم دے اور بُری باتوں سے روکے وَاُولِیک هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور جس قوم میں یہ بات پائی جاتی ہے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے کیونکہ وہ شرارت کو دبائے رکھتی ہے بڑھنے نہیں دیتی۔جیسے جنگل میں کہیں گندہ بیج پڑ جائے تو وہ مٹتا نہیں بلکہ پھیل جاتا ہے لیکن اگر کوئی اعلیٰ درجہ کی کھیتی ہو تو زمیندار جانتا ہے کہ اس میں بھی بعض دفعہ دب گھاس نکل آئے گی ، بعض دفعہ تھوہر میں نکل آئیں گی ، بعض دفعہ بکولیاں پیدا ہو جائیں گی ، بعض دفعہ آگ نکل آئے گا اُس وقت ضرر سے بچنے کا کیا طریق ہوتا ہے یہی ہوتا ہے کہ زمیندار ہل چلاتے ہیں بیشک وہ پھر بھی نکلتی ہیں لیکن کمزور ہو جاتی ہیں اور کھیت کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔پس تم ایسے مبلغ مقرر کرتے رہو اور مسلمانوں میں سے ایک ایسی جماعت کو مخصوص کرو جو دین کی خدمت میں لگی رہے جس کی وجہ سے اس قسم کے شرر آمیز اور نقصان دہ مادوں کا مک کے ساتھ قلع قمع ہوتا رہے بیشک شتر کا بیج پھر بھی موجود رہے گا ، لیکن وہ کمزور ہو جائے گا اور اصل فصل کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔مسلمانوں کا تبلیغ اسلام سے تغافل مسلمانوں نے اس پر ایک زمانہ میں عمل کیا لیکن افسوس ہے کہ بعد میں مسلمان اپنے اس کی فرض کو بُھول گئے اب صرف احمدی جماعت ہی ہے جو ہل چلا چلا کر دب، گھاسوں اور جڑی بوٹیوں کو دور کر رہی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے فائدہ کے لئے یہ کام ہو رہا ہے وہ اسی کا نام انکارِ جہا د ر کھتے ہیں ، اصل جہاد احمدی کر رہے ہیں اور مولوی کہتا ہے کہ چھوڑ دو یہ ہل چلانے ، آک نکلنے دو، تھوہر میں نکلنے دو، بکولیاں پیدا ہونے دو، کھیتوں کو برباد ہونے دو، مسلمانوں کو بھوکا مرنے دو، تم تو بے ایمان ہو گئے ہو جو مسلمانوں کے لئے روٹی مہیا کر رہے ہو۔