سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 900

سیر روحانی — Page 454

۴۵۴ یہ کہہ کر میں چلا گیا۔وہ کہنے لگے کام کر کے جب میں واپس آ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ گیدڑ نے اس کے سر پر پیر رکھا ہوا ہے اور پیشاب کر رہا ہے۔گیدڑ اور گتے کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ٹانگ اُٹھا کر اور کوئی سہارا ہو تو اُس پر رکھ کر پیشاب کرتا ہے۔میں نے آتے ہی اُسے اُٹھا کر پرے پھینک دیا اور میں نے کہا اپنے آپ کو تو پیشاب سے بچا نہیں سکتا میرے سامان کو تُو نے کیا بچانا ہے اور میں آکر مسلمان ہو گیا ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تعلیم شرک کے خلاف پیش کی وہ ایسی نفسوں میں گڑ گئی کہ جو بھی سنتا تھا وہ اس پر فریفتہ ہو جاتا تھا اس سے باہر نکلنے کی اس میں جرات ہی نہیں تھی۔ہندہ کا اعتراف توحید ہندہ کا واقعہ مشہور ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو مسلمانوں کو جولوگ دُکھ دینے والے تھے، جنہوں نے۔مسلمانوں پر بعض دفعہ انسانیت سوز مظالم کئے تھے یعنی ان کے ناک کان وغیرہ کاٹے تھے ان میں ہندہ بھی تھی۔ایسے لوگوں کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ ان کو معافی نہیں ہو گی بلکہ ان کو پکڑ کر سزا دی جائے گی ہندہ کے متعلق بھی یہی احکام تھے مگر ہندہ بڑی ہوشیار عورت تھی چُھپ گئی اُسے تلاش کیا گیا مگر نہ ملی مسلمانوں نے سمجھا کہ کہیں بھاگ گئی ہے۔درمیانی طرز کے لوگ جو غور کر رہے تھے اور اس لڑائی کا انجام دیکھنا چاہتے تھے جب مکہ فتح ہو گیا تو انہوں نے سمجھا کہ اسلام سچا ہے ان کے لئے آپ نے بیعت کا اعلان کر دیا۔عورتوں کے لئے بھی اعلان ہو اچنانچہ سینکڑوں عورتیں بیعت کے لئے آئیں اور ان میں ہندہ بھی چُھپ کر آ گئی۔بیعت کے وقت جو الفاظ دُہرائے جاتے تھے ان میں یہ الفاظ بھی آتے تھے کہ ہم شرک نہیں کریں گی ، باقی الفاظ تو وہ دُہراتی چلی گئی جب آپ ان الفاظ پر پہنچے کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی تو چونکہ ہندہ کی طبیعت بڑی تیز تھی فوراً مجلس میں بول اُٹھی کہ کیا اب بھی ہم شرک کریں گی ؟ تم اکیلے تھے اور ہم سارے تم کو مارنے کے لئے اکٹھے ہوئے ، تم کمزور تھے اور ہم طاقتور تھے، ہم نے ساری قوم کا زور صرف کیا مگر تمہارا خدا جیتا اور ہم ہارے کیا اب بھی ہم شرک کریں گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہندہ ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے لئے تو سزا تجویز ہے، اس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اب آپ کو مجھ پر کوئی اختیار نہیں ، اب میں مسلمان ہو چکی ہوں۔۳۹ تو دیکھو یہ توحید کی تعلیم تھی جس نے دلوں کو اس طرح صاف کر دیا کہ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ سب لغو اور عبث باتیں ہیں بھلا شرک کوئی مان سکتا ہے۔