سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 900

سیر روحانی — Page 453

۴۵۳ ہیں جن سے بغیر نفس کی ذلت کے ، بغیر کسی نفس کو توڑ دینے کے ، بغیر جذبات کو مار دینے کے خدا تک انسان پہنچ سکتا ہے خدا کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ ان باتوں کو رائج کرے۔۔رجز کے تیسرے معنے تیسرے معنے الرجز کے شرک کے ہیں گے اس لحاظ سے وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ کے یہ معنے ہوں گے کہ تو شرک مٹا دے دیکھو شرک کو چھوڑ دے اور شرک کو مٹا دے میں فرق ہے۔مولویوں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ تو شرک چھوڑ دے حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک پہلے ہی چھوڑ اہو ا تھا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی شرک نہیں کیا۔۔پس یہ معنے کرنا کہ ” شرک چھوڑ دے محمد رسول اللہ کی ہتک ہے اور یہ معنے کرنا کہ شرک کو مٹا دے“ یہ رسول اللہ کا اصل کام ہے۔خدا فرماتا ہے تو شرک کو توڑ دے کیونکہ ھجو کے معنے تو ڑ دینے اور مٹا دینے کے بھی ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی اتنی اعلیٰ تعلیم دی کہ شرک کی جڑ اُکھیڑ کر رکھ دی۔انسانیت کی تذلیل کا ایک بھیانک نظارہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوئے تھے بھلا سوچو تو سہی کہ اُس وقت کیسا بھیانک نظارہ نظر آتا تھا کہ ابو جہل جیسا انسان جو باتیں کرتا تھا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے عقلمندوں میں سے ہے۔ابوسفیان جس کا اسلام لانے کے بعد بھی عرب پر سکہ جما ہوا تھا اور لوگ اُس کی عزت کرتے تھے اُن کی یہ حالت تھی کہ اپنے سامنے مٹی کا بنا ہو ابت رکھتے ہیں اور اُس کے آگے گر جاتے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی ذلت تک انسانی دماغ پہنچا ہو ا تھا۔بتوں کی بے بسی ایک صحابی کہتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم دینی شروع کی تو میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کیونکہ ماں باپ سے سُنا ہو ا تھا کہ بتوں میں طاقت ہوتی ہے ہماری عادت تھی کہ جب ہم باہر کسی کام کے لئے جاتے تو ایک چھوٹا سا پتھر کا بنا ہو ابت اپنے ساتھ لے جاتے تا کہ اس کی برکت سے ہم مصیبتوں سے بچے رہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں سفر پر گیا اور بُت کو اپنے ساتھ لے لیا ایک جگہ پہنچ کر مجھے ایک ضروری کام پیش آیا میں نے اسباب رکھا اور بُت کو پاس بٹھا کر کہا حضور والا! آپ ذرا میرے اسباب کا خیال رکھیئے میں ایک ضروری کام کے لئے جا رہا ہوں