سیر روحانی — Page 445
۴۴۵ تسلیم کئے جا سکتے ہیں۔یہاں آپ کو گورنری پر مقرر کیا جا رہا ہے کوئی قیدی مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں ہو رہا جس کو جھاڑ پلائی جا رہی ہو بلکہ اعلیٰ درجہ کے عہدہ اور خاتم النبیین کے منصب پر شخص مقرر ہو رہا ہے اور بات اس طرح شروع کی جاتی ہے جس طرح کوئی تھرڈ کلاس ایک مجسٹریٹ مجرم کو جھاڑ رہا ہے۔رجز اور ھجو کے متعدد معانی بیشک رُجز کے معنے عربی زبان میں غلاظت اور میل کچیل کے بھی ہیں ۲۵ لیکن اس کے ایک معنے الْعَذَابُ کے ہیں ۲۶ اور ایک معنی عِبَادَةُ الاوثان ۲ے یعنی جُنوں کی پرستش کے ہیں۔اسی طرح میجر کے بھی کئی معنی ہیں ھجو کے ایک معنی ہیں چھوڑ دینا اور اعراض کرنا ، دوسرے معنی ہیں کسی چیز کو پوری طرح کاٹ دینا ۲۹ اور تیسرے معنی ہیں اونٹ کے پیر میں رتی باندھ کر وہی رہتی اس کی گردن سے باندھ دینا تا کہ پھندا پڑ جائے اور وہ نکلنا بھی چاہے تو نکل نہ سکے اور اس کی حرکت زیادہ سے زیادہ محدود رہ جائے۔سے پس وہ تو یہ معنی کرتے ہیں کہ اپنے جسم کی گندگی دور کر یعنی کپڑے بھی دھوا اور جسم کی گندگی بھی دُور کر ، لیکن ہم کہتے ہیں کہ ان معنوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ایک شبہ کا ازالہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کے متعلق یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ بعض دفعہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جاتا ہے اور مراد امت ہوتی ہے۔اس طرح ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچاؤ کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ گندگی اور غلاظت دُور کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد آپ کی اُمت ہے لیکن اس جگہ یہ معنے نہیں ہو سکتے اس لئے کہ یہ تو گورنر کے تقرر کا اعلان ہے جب اس کی امت کو ئی تھی ہی نہیں ، جب امت تھی ہی نہیں اور آپ کو خاتم النبیین کے عہدہ پر قائم کیا جا رہا تھا تو اُس وقت اس کا کیا ذکر تھا کہ تیرے مرید کپڑے بھی دھوئیں اور جسم کی غلاظت بھی دور کریں اُس وقت بہر حال کلام مخصوص تھا محمد رسول اللہ سے۔اُس وقت میں دوسرے لوگوں کی شرکت کا کوئی سوال نہیں تھا پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان معنوں کا سیاق وسباق سے بھی کوئی جوڑ نہیں۔پہلے کہا جاتا ہے ساری دنیا کو تبلیغ کر۔پھر کہتا ہے ٹھہر جا پہلے کپڑے دھولے۔پھر کہتا ہے کپڑے بھی ابھی رہنے دے پہلے نہالے۔غرض بالکل غیر متعلق باتیں ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ کے کلام میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔